جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 28 of 63

جذبۃ الحق — Page 28

28 مکالمہ بامولوی عبد اللہ صاحب ٹونکی مولانا شیلی صاحب سے باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ یکایک ایک شخص معمر و معمم آگئے جن کو میں نے ان کی صورت سے نہ پہچانا۔اسی عرصہ میں اور بھی دس باره آدمی باہر سے آکر فرش زمین پر بیٹھ گئے۔چونکہ مولانا شبلی صاحب نے اس اول شخص کو بہت اعزاز کے ساتھ بٹھایا اس وجہ سے میں نے سمجھا کہ یہ شخص یہاں کا کوئی معزز مولوی ہے پس جب میں نے ان بزرگ سے ان کا اسم گرامی و دولت خانہ دریافت کیا۔تو انہوں نے فرمایا کہ " ٹونک " اس پر میں نے کہا کہ وہی ٹونک نا جو ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست ہے۔میری طرف سے یہ تفتیش سن کر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ کسی قدر ترشرو سے ہو گئے۔جس کی وجہ میں نے کچھ نہ کبھی یہاں تک گفتگو ہوئی کہ ان دس بارہ آدمیوں میں سے ایک شخص جو نیم مولوی سا نظر آتا تھا کھڑا ہو کر ادب سے کہنے لگا کہ آپ کے مخاطب مولیتا مفتی محمد عبد اللہ صاحب ٹو ٹکی ہیں یہ سن کر میں پھڑک اٹھا اور ان سے مصافحہ کر کے کہا کہ آپ تو اس وقت میرے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ ہیں کیونکہ خاکسار آپ کا نام نامی بہت دنوں سے سنتا رہا اور آپ کی ملاقات کا بڑا اشتیاق رکھتا تھا۔آپ کے لکھنو میں مل جانے کا مجھے وہم و گمان بھی نہ تھا۔مفتی صاحب ممدوح نے بھی میرا حال دریافت کیا۔میں نے انہیں بھی وہی جواب دیا۔جیسا مولانا شیلی صاحب کو دیا تھا اور چند شبہات کے پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔لیکن میری یہ درخواست سن کر وہ کچھ گھبرا سے گئے اور صاف لفظوں میں اجازت نہ دی۔اس پر مولانا شبیلی صاحب کسی قدر مسکرا کر کہنے لگے کہ مولوی صاحب کو اور تو کچھ پوچھنا نہیں۔فقط قادیانی مذہب کے متعلق کچھ دریافت کرنا