جذبۃ الحق — Page 24
24 مکالمه با مولانا شبلی نعمانی الغرض مولانا شبلی صاحب کو ان کی نشست گاہ میں تنہا پا کر میں بہت خوش ہوا۔اور سمجھا کہ شاید وہ حق کا اقرار کر لیں گے کہ واقعی حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔خاکسار نے ان کے سامنے جاکر السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ عرض کیا۔جس کے جواب میں انہوں نے وعلیکم السلام کہا۔اور بیٹھنے کی تواضع کی۔ایک کوچ پر جو وہاں بچھی ہوئی تھی بیٹھنے کے لئے کہا اور میرے بیٹھ جانے کے بعد دریافت کرتے رہے کہ وطن کہاں ہے اور کیا شغل رکھتا ہوں۔میں نے اپنا نام بتایا اور کہا کہ بندے کا مکان جس حصہ ملک میں ہے وہاں جناب کا سا عالم میسر نہیں۔پس اگر جناب اجازت دیں تو بندہ اپنے بعض شبہات عرض کرے۔تا اس کا حل ہو جاوے۔مولوی صاحب نے اجازت دے دی۔تب خاکسار نے پوچھا کہ قادیانی عقائد کے بارے میں جناب کی کیا تحقیق ہے۔مولوی شیلی صاحب نے فرمایا کہ مذاہب باطلہ میں سے ہے اور یہی اکثر علماء وقت کی رائے ہے۔پس میں نے کہا کہ جناب نے کبھی اس مذہب کی تردید میں کچھ تحریر بھی فرمایا۔یا نہیں؟ جس کے جواب میں مولانا نے فرمایا کہ نہیں۔میں نے اس بارہ میں کبھی کچھ نہیں لکھا۔پھر خاکسار نے کہا کہ لکھنا تو ضرور چاہئے تھا۔آخر کیوں نہیں لکھا۔مولانا نے جواب دیا کہ میں نے تجربہ کیا ہے کہ جب کبھی کسی باطل مذہب کی تردید کی جاتی ہے تو وہ مذہب اور بڑھتا ہے اور اگر خاموشی اختیار کی جاوے تو از خود بتدریج مٹ جاتا ہے۔چنانچہ میں نے تاریخ طبری میں پڑھا ہے کہ بغداد میں شیعوں اور سینیوں کے درمیان بڑا جھگڑا تھا۔سنی جب