جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 23 of 63

جذبۃ الحق — Page 23

23 اتفاقا اس وقت چار ہی بجے تھے پس میں مولوی امداد علی کو ساتھ لئے ہوئے جو میرے ہمراہ تھے مولانا شبلی کے حجرہ میں جا پہنچا۔وہاں دیکھا کہ مولانا میرے حسب دلخواہ تھما بیٹھے ہوئے ہیں۔مخفی نہ رہے کہ مولانا شبیلی صاحب سے تنہائی میں ملنے کی وجہ یہ تھی کہ سابق میں جب وہ علی گڑھ کالج کے عربی پر و فیسر تھے اس وقت میں نے ان کے پاس ایک جوابی پوسٹ کارڈ میں یہ سوال لکھ بھیجا تھا کہ اس وقت عیسی علیہ السلام کے حیات و وفات کے بارہ میں علماء کے درمیان سخت اختلاف ہے پس اس کے متعلق جناب کی کیا رائے ہے۔بینواؤ تو جڑوا ؟ انہوں نے اس کے جواب میں اس طرح کی عبارت لکھی تھی۔قرآن کریم سے بظاہر تو عیسی علیہ السلام کا وفات پانا ہی معلوم ہوتا ہے لیکن ہمارے علماء کا مذ ہب یہ ہے کہ وہ آسمان پر زندہ ہیں اور قریب قیامت کے وہ پھر دنیا میں نازل ہوں گے۔انتي ناظرین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سوال و جواب میں کس قدر بعد ہے۔اور اصل سوال جو ان کی رائے کے متعلق تھا۔لوگوں کے خوف سے اس کا جواب انہوں نے نہ دیا جب کہیں بات میں نے ان سے بالمشافہ پو تھی تو انہوں نے کچھ اور ہی جواب دیا جیسا کہ عنقریب عرض کروں گا علاوہ اس کے میں نے بعض لوگوں کی زبانی سنا تھا کہ مولانا شیلی صاحب اس مسئلے یعنی وفات مسیح میں احمدیوں کے موافق ہیں اور لوگوں کے خوف سے اقرار نہیں کرتے۔اسی لئے میں نے ان سے تخلیہ میں ملنے کا انتظام کیا تھا تا کہ وہ اقرار کرنے میں خوف نہ کریں۔لیکن انہوں نے اقرار نہ کیا۔کیو نکر کرتے۔کیونکہ جس کے دل میں خدا کا خوف نہ ہو اور صرف انسانوں کا ڈر ہو ایسے شخص سے حق کا اعلانیہ اقرار کرانا بہت مشکل ہے۔