جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 22 of 63

جذبۃ الحق — Page 22

22 ہم لوگ مقام برہمن بڑیہ سے روانہ ہو کر شہر کلکتہ پہونچے۔چونکہ سنا گیا تھا کہ مولانا شبلی نعمانی اس وقت لکھنو میں ہیں۔اس لئے کلکتہ سے روانہ ہو کر پہلے لکھنو گیا۔اور وہاں مرزا کبیر الدین احمد صاحب سیکرٹری انجمن احمد یہ لکھنو کے مکان پر فروکش ہوا۔اگر چہ مرزا صاحب اپنی ملازمت پر گئے ہوئے تھے اور گھر پر موجود نہ تھے۔پھر بھی ان کے بھائی صاحب بہت ہی خاطر و تواضع کے ساتھ پیش آئے۔تیسرے پہر کو میں نے ان کو بتایا کہ میری اصل غرض لکھنئو آنے کی یہ ہے کہ مولانا شبلی صاحب سے مل کر تخلیہ میں کچھ باتیں کروں اس کے لئے کون سا وقت موزوں ہو گا۔یہ سنکر انہوں نے اپنی انجمن احمدیہ کا ایک مطبوعہ فارم نکال کر مولانا شیلی کے نام ایک خط لکھا کہ بنگال سے ایک عالم ہمارے یہاں تشریف لائے ہیں اور جناب سے ملاقات کے خواہشمند ہیں براہ عنایت مطلع فرمائیں کہ جناب سے ملنے کا کونسا وقت موزوں ہو گا۔یہ خطہ جب لکھا جا چکا تو میرے دل میں خیال گذرا کہ یہ لوگ یہاں قادیانی مشہور ہیں۔پس اگر میں ان کے ذریعہ سے مولانا شیلی سے ملنے گیا تو وہ ہرگز شرح صدر کے ساتھ مجھ سے نہ ملیں گے۔اور یہ بات میں نے مرزا کبیر الدین صاحب کے برادر عزیز پر ظاہر کی اور کہا کہ صرف ایک راہبر میرے ساتھ کر دیں۔تاکہ مولانا شبلی کا گھر مجھے دکھا کر چلا آوے۔میں خود ان سے حسب دلخواہ ملنے کی تدبیر کرلوں گا۔پس انہوں نے بھی اس تجویز کو پسند کیا۔اور ایک نوجوان کو جو شاید ان کا بھانجہ تھا میرے ساتھ کر دیا۔وہ میرے ہمراہ مولانا شبلی صاحب کے مکان تک گیا اور مجھے جگہ دکھا کر چلا آیا۔میں نے آگے بڑھ کر دیکھا کہ مولانا کے دروازے پر سائن بورڈ پر لکھا ہوا ہے کہ "جو صاحب مجھ سے ملاقات کرنا چاہیں وہ چار بجے کے بعد تشریف لادیں"۔