جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 18 of 63

جذبۃ الحق — Page 18

18 امید نہ رکھنا۔تمہیں تو یہ چاہئے تھا کہ ہمارے پاس جو علمی دولت ہے وہ ہم سے حاصل کر کے رکھتے۔کیونکہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ ہم نہ ہوں گے اور تم علم کے لئے ترسو گے۔اور ہمیں یاد کرو گے۔الغرض میں نے اس قسم کی نصیحت آمیز باتوں پر اپنے کلام کو ختم کیا اور دیکھا کہ سامعین جو شہباز پور کے لوگ معہ مولوی عبد الوہاب اور ان کے ہمراہیوں کے انتظار کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ان کی دعوت کی تھی۔پس بہاری مولوی صاحب اور مولوی عبد اللہ چھپروی مقام شہباز پو ر کو روانہ ہوئے اور میں بھی ان سے رخصت ہو کر اپنے گھر چلا آیا یہاں تک دوسرے دن کی کارروائی ختم ہوئی۔تیسرا دن۔معلوم ہوا کہ آج دو پسر تک بهاری مولوی صاحب اور ان کے ہمراہی شہباز پور سے برہمن بونیہ واپس آجائیں گے اور اپنے کسی پر ستار کے گھر دعوت کھا کر کلکتہ کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔اس دعوت کرنے والے شخص نے مجھ کو بھی دعوت دی تھی۔لیکن چونکہ شہباز پور سے مولوی صاحبان کی واپسی میں دیر ہوئی اس وجہ سے میں نے اپنے گھرہی میں کھانا کھا لیا۔اور اس دعوت میں نہ جا سکا۔آخرش بہاری مولوی صاحب اور ان کے ہمرا ہی مولوی عبد اللہ چھپر وی بڑی دیر کے بعد شہباز پور سے واپس آئے۔اور دعوت کا کھانا کھا کر اسٹیمر گھاٹ پر چلے گئے۔تاکہ اسٹیمر پر سوار ہو کر کلکتہ کی طرف روانہ ہو جائیں۔اتفاق میں بھی کسی ضروری کام کے لئے اسٹیمر گھاٹ پر چلا گیا۔اور وہاں مولوی صاحبان سے ملاقات ہو گئی۔بہت دیر تک ان سے بات چیت ہوتی رہی۔آخرش میں نے ان کی دعوت بھی کردی اور کہا کہ آج میرے ہاں قیام کر کے کل کلکتہ کی طرف روانہ ہو جائیے گا۔لیکن ہماری مولوی صاحب نے یہ عذر