جذبۃ الحق — Page 14
14 کہ آدمی تو بہت ہی قابل معلوم ہوتے ہیں۔اس سے قبل بعض رازداروں نے ان کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ یہاں کے لوگ بڑے مولوی صاحب کے ایسے معتقد ہیں کہ اگر ان کی نسبت کوئی نا ملائم لفظ آپ زبان پر لاویں گے تو یہاں سے عزت لے کر جانا مشکل ہو جائے گا جس کی تصدیق گذشتہ دن کے جلسہ کے حالات سے بھی ہو چکی تھی۔پس اس وقت سے بہاری مولوی صاحب کو برہمن بڑیہ سے با عزت واپس جانے کی فکر پڑ گئی اور ہر طرح کے حیلے بہانے تلاش کرنے لگے۔بهر کیف مولوی صاحبان بازار کے جلسہ میں گئے لیکن دل میں وہی خیال رہا۔ایک مفسد مولوی نے کہیں سے ایک ایسا فتوئی بہم پہنچایا کہ جس میں احمدیوں کی خدمت لکھی ہوئی تھی اور جانے پر ہماری مولوی صاحب اسے پڑھ کر لوگوں کو سنائیں بازار کا جلسہ تو ہوا اور مولویوں نے تقریریں کیں لیکن کوئی نا ملائم لفظ میرے خلاف زبان پر نہ لا سکے۔بلکہ بعض اوقات تعریف کرتے رہے۔کہیں کہ ارادہ کیا کہ تقریروں کے ختم ہو جن مفسدوں نے میرے خلاف ان سے کچھ کھلانا یا فتویٰ کا اعلان کرانا چاہا تھا وہ ناکام رہے۔مولویوں کی تقاریر نے ان کی ہمتیں پست کر دیں۔جس مفسد مولوی نے اس بیہودہ فتوئی کو عوام میں پیش کرنے کے لئے جیب سے نکالا تھا۔پھر جیب کے اندر رکھ لیا۔اور یہ بھی سنا گیا۔کہ بہاری مولوی صاحب اس جلسہ سے یہی کہہ کر اٹھے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ مولوی عبد الواحد صاحب کے مقابل کوئی دوسرا عالم اس علاقہ مشرقی بنگال میں موجود نہیں ہے۔پس یہاں کے لوگوں سے جس طرح ہو سکے ان کو قادیانی ہونے سے باز رکھیں کیونکہ مبادا یہ مولوی صاحب قادیانی ہو گئے تو علاقہ کا علاقہ بالکل بے دین ہو جائے گا۔الغرض مولوی صاحبان بازار کے جلسہ سے واپس آنے کے بعد سے اس فکر