جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 80 of 143

جنت کا دروازہ — Page 80

80 بزرگوں کے نمونے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں رویا میں جنت میں داخل ہوا۔اور اس میں قراءت سنی تو میں نے پوچھا یہ کون ہے تو اہل جنت نے کہا یہ حارثہ بن نعمان ہے وہ اپنی ماں کے ساتھ سب لوگوں سے بڑھ کر حسن سلوک کرنے والے تھے۔حضرت بایزید بسطامی فرماتے ہیں۔(مشكوة كتاب الادب باب البر والصله ) کہ جس کام کو میں سب کاموں سے بعد جانتا تھا۔وہ مقدم کام تھا۔یعنی والدہ کی رضا مندی پھر فرمایا۔کہ جس چیز کو میں مجاہدات و ریاضات شاقہ میں تلاش کرتا پھرتا تھا۔وہ میں نے گھر میں آسانی سے حاصل کر لی ایک رات والدہ نے پانی طلب کیا۔میں کوزہ میں سے پانی لینے گیا مگر وہاں پانی نہ تھا۔گھڑے میں دیکھا۔مگر وہاں بھی پانی نہ تھا۔چنانچہ میں نہر پر جا کر پانی لایا۔مگر میری واپسی تک والدہ پھر سوگئی تھیں۔میں اسی طرح پانی کا کوزہ لئے کھڑا رہا۔سخت سردی کے باعث کوزہ میں پانی جم گیا۔جب والدہ بیدار ہوئیں۔تو انہوں نے مجھ کو یوں کھڑے دیکھ کر سبب دریافت کیا۔میں نے عرض کی۔کہ شاید آپ بیدار ہوں اور پانی طلب کریں۔لیکن میں حاضر نہ ہوں۔اس ڈر کی وجہ سے میں کھڑا رہا۔یہ سن کر والدہ نے پانی پیا اور میرے حق میں دعا کی۔ایک رات کا ذکر ہے۔والدہ نے فرمایا۔کہ بیٹا آدھا دروازہ کھول دو۔یہ کہہ کر وہ سو گئیں۔میں اب حیران تھا۔کہ کون سا دروازہ۔دائیں طرف کا یا بائیں طرف کا کھولوں۔اس شش و پنج میں کہ والدہ کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہ کر بیٹھوں۔دروازے ہی میں کھڑے کھڑے ساری رات گزر گئی۔صبح کے وقت میں نے دیکھا کہ