جنت کا دروازہ — Page 75
75 ایک دفعہ یورپ میں سوال و جواب کی کسی مجلس میں عیسائی خاتون نے یہ سوال کیا اور مجھے یاد نہیں کہ کبھی بھی سوال و جواب کی کوئی ایسی مجلس ہوئی ہو جس میں یہ سوال نہ کیا گیا ہوتو میں نے اسے کہا کہ میں صرف حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا ایک فرمان تمہیں سناتا ہوں۔تم مذاہب کا ہی نہیں تمام دنیا کی تہذیبوں میں عورت کے ذکر کی تحقیق کر دیکھو اور وہ شان جو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ایک چھوٹے سے پاکیزہ جملے میں عورت کو عطا کر دی ہے اس کا لاکھوں کروڑواں حصہ بھی مجھے کہیں اور سے لا کر دکھاؤ۔میں نے اسے بتایا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی یو نے ایک مرتبہ فرمایا کہ تمہاری جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔اتنا خوبصورت فقرہ ہے۔عورت کے لئے اتنا عظیم اظہار تحسین ہے کہ جس کے متعلق یہ فقرہ کہا جائے بلا شبہ اس کو آسمان کی بلند ترین رفعتیں عطا ہو جاتی ہیں۔کسی مرد کے متعلق نہیں فرمایا یا مردوں کے کسی گروہ سے متعلق نہیں فرمایا کہ ان کے پاؤں تلے ان کی اولادوں کی جنت ہے یا قوم کی جنت ہے۔صرف عورت کو مخاطب کرتے ہوئے یہ ایسا سرٹیفکیٹ ایسا لقب عطا فرما دیا۔ایسا مقام عطا کر دیا۔ایسا طمح نظر اس کو بخشا جس کی کوئی مثال دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ملتی۔جب میں نے اس کی مزید تفصیل بیان کی تو وہی خاتون جنہوں نے بڑی شوخی سے تو نہیں کہنا چاہئے مگر اعتماد کے ساتھ یہ جانتے ہوئے یہ احساس رکھتے ہوئے یہ سوال کیا تھا کہ اس سوال کا کوئی جواب کسی کے پاس نہیں ہو سکتا یہ سن کر نہ صرف یہ کہ اس کا سر جھک گیا بلکہ بعد میں تائید میں کھڑی ہوئی اور اس نے کہا آج مجھے پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ اسلام عورت کو کیا عزت عطا کرتا ہے اور کیا مقام بخشتا ہے۔یہ ایک چھوٹی سی ہدایت ہے لیکن اس کے اندر ثبت رنگ کے بھی اور منفی رنگ کے بھی بہت گہرے مضامین ہیں۔یہ محض ایک خوشخبری ہی نہیں بلکہ انذار کا پہلو بھی رکھتی