جنت کا دروازہ — Page 59
59 بچہ کی تربیت میں سختی کی بجائے رحم کی ضرورت اس دعا نے ایک اور حیرت انگیز مضمون کو ہمارے سامنے کھول دیا کہ والدین بھی جہاں تک خدا کا تعلق ہے اس کی تربیت کے محتاج ہیں اور لهما اف کہنے کے ساتھ ان کی بشری کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے تو وہاں بھی خدا تعالیٰ کی ربوبیت کی بہت ضرورت ہے۔انسان تو مرتے دم تک خدا کی ربوبیت کا محتاج رہتا ہے اس لئے یہ دعا بہت ہی کامل دعا ہے اور اس کے معنی یہ بنیں گے کہ اے خدا! اگر چہ بظاہر ان کے اعضاء مضمحل ہو چکے ہیں۔یہ کمزوری کی طرف لوٹ رہے ہیں طاقت کے بعد ضعف ہو چکا ہے۔لیکن ضعف کے وقت زیادہ رحم کے ساتھ تربیت کی ضرورت پیش آتی ہے۔جب میں بچہ تھا تو میرے والدین نے مجھ سے میرے ضعف کی وجہ سے رحم کا سلوک کیا اور صغیراً" کے لفظ نے بتا دیا کہ بڑے ہو کر رحم کا معاملہ اتنا نہیں رہا کرتا جتنا بچپن میں ہوتا ہے۔بچپن کی کمزوری ہے جو رحم کا تقاضا کرتی ہے۔بچے کو آپ ایک بات سکھاتے ہیں۔چلانا سکھا ئیں تو بار بار وہ گرتا ہے۔بولنا سکھا ئیں تو بار بار غلطیاں کرتا ہے۔تلاتا ہے۔سبق پڑھا ئیں تو اس کو پڑھا ہوا سبق بار بار بھولتا چلا جاتا ہے۔لفظ آپ رٹا بھی دیں تو پھر اگلی دفعہ جب سنتے ہیں تو اس لفظ میں پھر وہی غلطیاں کرنے لگ جاتا ہے۔بعض دفعہ بچے کو پڑھانا اعصاب شکن ہوتا ہے اور حقیقت میں جب تک رحم کا معاملہ نہ کیا جائے اس وقت تک بچے کی صحیح تعلیم نہیں ہو سکتی۔چنانچہ بعض والدین جو جہالت سے حوصلہ چھوڑ بیٹھتے ہیں وہ بچے سے بجائے رحم کے مفتی کا معاملہ شروع کر دیتے ہیں اور سختی کے ساتھ بچے کی تربیت ہو نہیں سکتی۔اس میں بغاوت پیدا ہو جاتی ہے۔اس میں سخت رد عمل پیدا ہوتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اس کی تربیت ہو اس کے اندر بچپن سے نقائص بیٹھ جاتے ہیں۔پس اس آیت کریمہ نے اس حکمت کو بھی ہمارے سامنے