جنت کا دروازہ — Page 32
32 والدین کے ساتھ احسان اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعُبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَا أَوْ كِلَهُمَا فَلا تَقُل لَّهُمَا أُتٍ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمُهُمَا كَمَا رَبَّنِي صَغِيرًا (بنی اسرائیل: 24 25) اور تیرے رب نے فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین سے احسان کا سلوک کرو۔اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک تیرے پاس بڑھاپے کی عمر کو پہنچے یا وہ دونوں ہی، تو انہیں اُف تک نہ کہہ اور انہیں ڈانٹ نہیں اور انہیں نرمی اور عزت کے ساتھ مخاطب کر۔اور ان دونوں کے لئے رحم سے عجز کا پر جھکا دے اور کہہ کہ میرے رب! ان دونوں پر رحم کر جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری تربیت کی۔یہ آیت معارف کا بہت بڑا خزانہ ہے اور متعدد مضامین پر بہت عمدگی سے روشنی ڈالتی ہے چند اہم مضامین یہ ہیں۔(1) والدین کے ساتھ احسان کیسے کیا جائے۔(2) ناپسندیدگی اور کراہت کے باوجود ان کی اطاعت کی جائے۔(3) والدین کے لئے دعا۔ان سب مضامین کی تفصیل ترتیب وارج کی جاتی ہے۔