جنت کا دروازہ — Page 27
27 مسئلہ کی صورت بیان کی۔زرقہ نے کہا آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔آپ کیوں نہیں بتا دیتے۔امام صاحب نے فرمایا میں نے یہ فتویٰ دیا تھا زرقہ نے کہا کہ بالکل صحیح ہے۔یہ سن کر ان کو تسکین ہوئی اور گھر واپس آئیں۔ابن عبیرہ نے جب امام صاحب کو بلا کر میر نشی مقرر کرنا چاہا اور انکار کے جرم پر درے لگوائے۔اس وقت امام صاحب کی والدہ زندہ تھیں۔ان کو نہایت صدمہ ہوا۔امام صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مجھ کو اپنی تکلیف کا چنداں خیال نہ تھا۔البتہ یہ رنج ہوتا تھا کہ میری تکلیف کی وجہ سے والدہ کے دل کو صدمہ پہنچتا ہے۔(سیرة ائمہ رابعہ صفحہ 73 از رئیس احمد جعفری غلام علی اینڈ سنز) رفقاء مسیح موعود حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد کی تقریری بطور مربی انگلستان ہوئی تو ان کی مخواہ سوروپے ماہوار تھی۔چندے اور دوسری کٹوتیوں کے بعد انہیں ساٹھ روپے ماہوار ملتے تھے جس میں سے بڑا حصہ وہ اپنی والدہ کو بھیج دیتے تھے۔(الفضل 18 دسمبر 1955 ء ) حضرت مسیح موعود کی خدمت میں ایک ضعیف العمر شخص غالبا وہ بیعت میں داخل تھا۔اور اس کا بیٹا نائب تحصیلدار تھا۔جو اس کے ساتھ حاضر ہوا۔باپ نے شکایت کی کہ یہ میرا بیٹا میری یا اپنی ماں کی خبر گیری نہیں کرتا۔اور ہم تکلیف سے گزارہ کرتے ہیں۔حضور نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے یطعمون الطعام (۔) اور اس میں کیا شک ہے۔کہ جب کوئی شخص اپنے ماں باپ اور اولاد اور بیوی کی خبر نہ لے۔تو وہ بھی اس حکم کے نیچے مساکین (ماں باپ) بیتای ( بچے ) اسیر (بیوی) میں داخل ہو جاتے ہیں۔تم خدا تعالیٰ کا یہ حکم مان کر