جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 11 of 143

جنت کا دروازہ — Page 11

11 کسی کو پیدا کر ہی نہیں سکتا اپنے زور سے ایک معمولی سا خون کا لوتھڑا بھی انسان پیدا نہیں کر سکتا اگر خدا تعالی نے اس کو ذرائع نہ بخشے ہوں۔تو پہلا مضمون یہ ہے کہ اللہ خالق ہے اس لئے اس کا شریک ٹھہرانے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے۔اور سب سے بڑا ظلم ہے کہ خدا جس نے سب کچھ بنایا ہو اس کو نظر انداز کر کے نعمتوں کے شکریے دوسروں کی طرف منسوب کر دئے جائیں۔پھر اس تخلیق کا اعادہ ماں باپ کے ذریعے ہوتا ہے اور پھر ماں باپ کے ساتھ آپ کا وجود بنتا ہے۔اگر ایک تخلیق کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ احسان کا سلوک کریں گے تو جو عظیم خالق ہے لازما اس کے لئے بھی دل میں امتنان اور احسان کے جذبات زیادہ زور کے ساتھ پیدا ہوں گے اور پرورش پائیں گے پس یہ دو مضمون جڑے ہوئے ہیں۔جو ماں باپ کے احسان کا خیال نہیں کرتا اور جوابا ان سے احسان کا سلوک نہیں کرتا اس سے یہ توقع کر لینا کہ وہ اللہ کے احسانات کا خیال کرے گا۔یہ بالکل دور کی کوڑی ہے۔پس ماں باپ کا ایک تخلیقی تعلق ہے جسے اس مضمون میں ظاہر فرمایا گیا ہے۔اور رمضان مبارک میں اللہ تعالیٰ نے رمضان کا مقصد خداتعالی کو پانا قرار دے دیا ہے اور خدا تعالیٰ کو حاصل کرتا بنیادی مقصد بیان فرمایا ہے۔پس اس تعلق سے حضرت رسول اللہ ہے جو سب سے زیادہ قرآن کا عرفان پلائے گئے آپ نے یہ مضمون ہمارے سامنے اکٹھا پیش کیا کہ رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھاتے وقت ہر قسم کے محسنوں کا احسان اتارنے کی کوشش کرو۔ماں باپ کا احسان تو تم اتار سکتے ہو ان معنوں میں کہ تم مسلسل ان سے احسان کا سلوک کرتے رہو۔عمر بھر کرتے رہو۔اگر احسان نہ بھی اترے تو کم سے کم تم ظالم اور بے حیا نہیں کہلاؤ گے۔تمہارے اندر کچھ نہ کچھ یہ طمانیت پیدا ہوگی کہ ہم نے اتنے بڑے حسن اور محسنہ کی کچھ خدمت کر کے تو اپنی ما الله