جنت کا دروازہ — Page 10
10 10 وہ آدمی بڑا بد قسمت ہے جس کی زندگی میں رمضان آیا اور گزر گیا قبل اس کے کہ اس کے گناہ بخشے جائیں۔اور وہ آدمی بھی بڑا بد قسمت ہے جس نے اپنے والدین کو اپنے پاس بڑھاپے کی حالت میں پایا اور انہوں نے (اس کی خدمت کی وجہ سے ) اسے جنت میں داخل نہ کرایا۔سید نا حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔والدین کی خدمت ایک بڑا بھاری عمل ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بد قسمت ہیں۔ایک وہ جس نے رمضان پایا اور رمضان گزر گیا اور اس کے گناہ نہ بخشے گئے اور دوسرا وہ جس نے والدین کو پایا اور والدین گزر گئے اور اس کے گناہ نہ بخشے گئے۔والدین کے سایہ میں جب بچہ ہوتا ہے تو اس کے تمام ہم وغم والدین اٹھاتے ہیں۔جب انسان خود دنیوی امور میں پڑتا ہے تب انسان کو والدین کی قدر معلوم ہوتی ہے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 289) سیدنا حضرت خلیفة المسیح الرابع ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔حضرت رسول اللہ ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ رمضان شریف میں دو آدمی بڑے بد قسمت ہیں جو نہ خدا کو پاسکیں نہ ماں باپ کا کچھ کر سکیں رمضان گزر جائے اور ان دو پہلوؤں سے ان کے گناہ نہ بخشے گئے ہوں تو یہ دو الگ الگ چیزیں نہیں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط چیزیں ہیں۔وجہ یہ ہے کہ اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے اور اس احسان میں اور کوئی شریک نہیں ہے۔یعنی اس نے آپ کو پیدا کیا اس نے سب کچھ بنایا اور ماں باپ بھی اس میں شریک ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ ماں باپ کو بھی اسی نے بنایا اور ماں باپ کو جو توفیق بخشی آپ کو پیدا کرنے کی وہ اسی نے پیدا کی۔اپنے طور پر تو کوئی