جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 118 of 143

جنت کا دروازہ — Page 118

118 پھر اپنے محبوب وطن میں جا کر ماں باپ بہن بھائیوں دوسرے رشتہ داروں دوست احباب اور بچپن کے ہم جولیوں سے آزادانہ طور پر ملنے جلنے میں کوئی رکاوٹ بھی حائل نہ ہو تو اس کے جذبات ایسے وقت میں کیا ہو سکتے ہیں۔سامنے باپ اور چچا کھڑے تھے اور اس یقین کے ساتھ ان کے دل بھرے ہوئے تھے کہ ہمارا لخت جگر اب ہمارے ساتھ جائے گا۔جدائی کی دلگرد از گھڑیاں اب ختم ہونے کو ہیں اور پھر اس کا کوئی دوبارہ امکان بھی نہ ہوگا کہ وہ تا عمر ہمارے پاس رہے گا۔وہ یہ وہم بھی نہ کر سکتے تھے کہ جب زید کو آنحضور لے جانے کا اختیار دے رہے ہیں تو انہیں اس میں کوئی تامل ہو سکتا ہے؟ مگر حضرت زیڈ نے جواب دیا کہ میں حضور پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔آپ ہی میرے ماں باپ ہیں۔آپ کے در کو چھوڑ کر میں کہیں جانا پسند نہیں کرتا اس جواب کوسن کر ان کے والد اور چچا محو حیرت ہو گئے اور انہوں نے کہا زید کیا تم ہم پر غلامی کو ترجیح دیتے ہو۔حضرت زیڈ نے کہا کہ ہاں مجھے اس ذات پاک میں ایسی خوبیاں نظر آئی ہیں کہ اس پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔طبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 40 42t بیروت - 1957 ء ) عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پُر خطر عشق ہے جو سر جھکا دے زیر تیغ آبدار مجھے رسول اللہ کے حوالے کر دو ایک دن آنحضرت ﷺ نے ایک انصاری سے فرمایا تم اپنی لڑکی کے نکاح کا اختیار مجھے دے دو۔وہ منتظر ہی تھے باغ باغ ہو گئے۔لیکن آپ نے فرمایا میں اپنے لئے نہیں بلکہ جلیبیب کے لئے پیغام دیتا ہوں جلیبیب ایک ظریف الطبع صحابی تھے۔انہوں نے جلیبیب کا نام سنا تو بولے اس کی ماں سے مشورہ کر لو۔ماں نے