جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 89 of 143

جنت کا دروازہ — Page 89

89 اگر محبت سے ایک ذرہ بھی کسی کو تحفہ دیا جائے تو وہ راضی ہو جاتا ہے تو کیسا عمدہ گہرا نفسیاتی نکتہ بیان فرمایا۔فرمایا کہ میں تو تجھ پر احسان کر نہیں سکتا لیکن تجھے راضی تو کر سکتا ہوں اور احسان کا بدلہ تو اسی لئے چپکایا جاتا ہے کہ کوئی راضی ہو جائے بس اب تو ایسا فیصلہ فرما کہ ایسے عمل کی تو مجھے خود توفیق عطا فرما۔مجھے معلوم نہیں تو کس عمل سے راضی ہو گا۔جس عمل سے بھی تو راضی ہوتا ہے وہی عمل میں کرتا چلا جاؤں اور ساری زندگی میں تیری رضا حاصل کرتا رہوں۔تجھے خوش کرتا رہوں(۔) ذریتی اور یہی نہیں میری ذریت کو بھنی صالح بنا دے اور اس ذریت میں آپ سب شامل ہیں۔صرف آنحضرت ﷺ کی جسمانی اولاد ہی نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان جنہوں نے آپ سے تعلق جوڑنا تھا یا آئندہ جوڑیں گے وہ سارے اس دعا میں شامل ہو جاتے ہیں۔ذوق عبادت صفحه 408 تا411) یہ دعا جو آنحضرت ﷺ کے مبارک منہ سے نکلی قریباً انہی الفاظ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی زبان سے بھی قرآن کریم نے درج فرمائی ہے۔حضرت سلیمان کی دعا رَبِّ أَوْرِعُنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَهُ وَاَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّلِحِينَ (النمل - 20) اے میرے ربّ! مجھے توفیق بخش کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے پر کی اور میرے ماں باپ کی کی اور ایسے نیک اعمال بجالاؤں جو تجھے پسند ہوں۔اور تو مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیکو کار بندوں میں داخل کر۔اس دعا کا مطلب بیان کرتے ہوئے سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع اید واللہ