جنت کا دروازہ — Page 67
67 کامل کلام ہے۔تربیت کے سارے امور بھی اس میں بیان ہو گئے دونوں نسلوں کے تعلقات اس میں بیان ہو گئے وہ خطرات بیان ہو گئے جو ہمیں در پیش آسکتے ہیں جن سے ہمیں متنبہ کیا گیا اور پھر یہ بتایا گیا کہ تربیت کا بہترین طریق دعا ہی ہے پس جس طرح تمہارے والدین بچپن میں دعاؤں کے ذریعہ تم سے اپنی رحمت کا اظہار کرتے تھے تم بھی آخر پر خدا سے یہ دعا کیا کرنا اور اس دعا کو حسن سلوک کے بعد رکھا ہے۔دیکھیں ! و اخفض لهما (-) ان پر اپنی رحمت کے پر پھیلا دو ان کو اپنے پروں کے نیچے لے لو۔ساری بات بظاہر مکمل ہو گئی۔پھر فرمایا نہیں مکمل ہوئی جب تک یہ دعا ساتھ نہیں کرو گے۔اس وقت تک تم حقیقت میں احسان کا بدلہ احسان کے ذریعہ نہیں دے سکو گے۔پس اس دعا نے اس مضمون کو مکمل کیا اس دعا کے وقت ان سب باتوں کو اگر ہم چیش نظر رکھیں تو اس دعا میں بہت گہرائی پیدا ہو جاتی ہے اور بہت عظمت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ دعا انگلوں کے لئے بھی مفید ہے اور گزرے ہوؤں کے لئے بھی مفید ہے اور ہر طرف برابر اثر دکھاتی ہے۔توحید باری تعالیٰ کے ساتھ اس مضمون کا بہت گہرا تعلق ہے کیونکہ سوسائٹی میں وحدت توحید کے اعلیٰ قیام کے لئے ضروری ہے۔اور سوسائٹی میں وحدت تبھی ممکن ہے اگر والدین کا اولاد کے ساتھ اور اولاد کا والدین کے ساتھ گہرا اٹوٹ تعلق قائم ہو چکا ہو۔اسی کے نتیجہ میں خاندان استوار ہوتے ہیں اسی کے نتیجہ میں سوسائٹی میں یک جہتی پیدا ہوتی ہے۔جہاں خاندانی رشتے ٹوٹ جائیں جہاں والدین اپنی اولاد سے الگ ہونے شروع ہو جائیں وہاں سوسائٹی پارہ پارہ ہو کر بکھر جاتی ہے اور ایک بکھری ہوئی منتشر سوسائٹی توحید پر قائم نہیں ہوا کرتی پس وحدت کے ساتھ اس مضمون کا ایک اور بھی گہرا تعلق ہے یعنی ایک تعلق تو یہ ہے کہ خدا کو اپنی توحید کے بعد سب سے زیادہ یہ چیز