جنت کا دروازہ — Page 43
43 آج سکول میں تعطیل ہے۔خالد دسمبر 1985 صفحہ 86) فوراً روانہ ہو گیا ہیں۔حضرت سید سرور شاہ صاحب کے بیٹے سید مبارک احمد صاحب سرور تحریر کرتے تایا جان حضرت سید محمد صادق صاحب مرحوم نے حضرت والد صاحب کو محط لکھا کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔میری دولڑکیاں جوان ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ بڑی بیٹی کی شادی عزیز سید مبارک احمد سے کردوں۔آپ عزیز کو میرے پاس کشمیر بھیج دیں۔تا کہ وہ بھی یہاں کے حالات دیکھ لے۔موسی تعطیلات میں میں لدرون میں ان کے پاس پہنچا۔آپ نے علیحدگی میں باتوں باتوں میں رشتہ کے متعلق بھی ذکر کیا۔اور اپنے خانگی حالات بتاتے ہوئے فرمایا۔کہ اب میری عمر کا آخر ہے۔نرینہ اولاد کوئی نہیں۔میری یہ خواہش ہے کہ آنعزیز کو بطور خانہ داماد " یہاں رکھوں۔اس طرح میری جائیداد خاندان سے باہر جانے سے محفوظ رہے گی اور تم مستقل طور پر یہاں رہائش رکھو۔تا کہ میرے بعد جائیداد کے مالک بنو۔میں نے بلایا تھا کہ تم خود حالات دیکھ سکو۔میں نے محیط میں خانہ دامادی کا ذکر نہیں کیا تھا کہ مولوی صاحب اس بات کو نہیں مانیں گے۔میں نے سوچا کہ اس میں کسی قسم کا خسارہ نہیں اور تایا جان کی خدمت بھی ہو جائے گی میں اس امر پر آمادہ ہو گیا۔لیکن حضرت والد صاحب کا عدم اتفاق کا خوف بھی تھا۔اس لئے عرض کیا کہ میں مفضل احوال والد صاحب کی خدمت میں تحریر کرتا ہوں۔میں تو متفق ہوں۔لیکن ان کی رضامندی بھی ضروری ہے۔مجھے توقع ہے کہ حالات کے پیش نظر وہ بھی متفق ہو جائیں گے۔حضرت والد صاحب کا جواب آیا تو سخت غصہ سے بھرا ہوا تھا۔جس کا لب لباب یہ تھا کہ تم کو شرم آنی چاہیئے۔کہ تمہارے والد نے تو اللہ