جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 39 of 143

جنت کا دروازہ — Page 39

39 جھڑ کو۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان 24 فروری 1910ء) رشاد حضرت خلیفہ اسیح الثانی عندک کے لفظ میں یہ بتایا ہے۔کہ اگر وہ تمہاری کفالت میں بھی ہوں تو بھی کچھ نہ کہنا۔کجا یہ کہ وہ الگ رہتے ہوں۔اور پھر بھی تمہارے ہاتھوں تکلیف پائیں۔کفالت کی خصوصیت اس لئے فرمائی۔کہ ہر وقت کا پاس رہنے سے اختلاف زیادہ رونما ہوتے ہیں۔اور پھر یہ بھی قاعدہ ہے کہ انسان جس پر خرچ کرتا ہے اس پر اپنا حق بھی بجھنے لگتا ہے۔اف کلمہ میجر ہے یعنی ناپسندیدگی کا کلام یعنی یہ کہنا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں اور پھر نا پسندیدگی کو عملی جامہ پہنانے کو کہتے ہیں یعنی نہ منہ سے نہ عمل سے ان کو دکھ دو۔اسلام نے والدین کی خدمت کیلئے خاص ہدایت دی ہیں۔آنحضرت نے نے فرمایا ہے۔من ادرك احدو الديه ثم لم يغفر له فابعده الله عروجل (رواه احمد ابن کثیر جلد 6 صفحه 61) یعنی جس شخص کو اپنے والدین میں سے کسی کی خدمت کا موقع ملے اور پھر بھی اس کے گناہ نہ معاف کئے جائیں تو خدا اس پر لعنت کرے مطلب یہ کہ نیکی کا ایسا اعلیٰ موقعہ ملنے پر بھی اگر وہ خدا کا فضل حاصل نہیں کر سکا۔تو جنت تک پہنچنے کے لئے ایسے شخص کے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔( تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ 321 نظارت اشاعت ربوہ )