جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 40 of 143

جنت کا دروازہ — Page 40

40 عدل اور احسان سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الرابع ایدہ اللہ نے اس آیت کے تعلق میں عدل اور احسان کے مضمون کا فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی عبادت اور توحید کی تعلیم دی وہاں فوری توجہ دلائی کہ میرے حق تو ادا کرو۔ضرور کرنے ہیں تم نے اس کے بغیر تو تمہارا چارہ کچھ نہیں مگر یا درکھنا والدین کے ساتھ بھی احسان کا سلوک کرنا۔اور پھر فرمایا کہ اگر وہ تم پر زیادتی بھی کریں تو اف تک نہیں کہنی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان میں یہ رجحان ہے کہ ماں باپ کے باقی سب احسان بھلا کر کہیں زیادتی ہو تو اف کہہ بیٹھتے ہیں اور بعض ایسے بھی بد نصیب ہیں کہ صرف اس جھگڑے میں کہ فلاں بیٹے کو تم نے زیادہ دے دیا یا فلاں بیٹی کو زیادہ دے دیا ہے۔ماں باپ سے با قاعدہ لڑائی مول لے بیٹھتے ہیں قضاؤں میں پہنچ جاتے ہیں وہ جھگڑے پیچھا ہی نہیں چھوڑتے پھر کوئی اس بات کی حیاء نہیں کرتے کہ احسان کا ذکر خدا نے فرمایا ہے تم پر ماں باپ نے رحم کیا تھا تم پر احسان کیا تھا۔تم بھی اس رحم کے مقابل پر احسان کا سلوک کیا کرو۔عدل کا نہیں فرمایا اور اس میں بڑی حکمت ہے عدل کا ذکر نہ کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان سے نا انصافی سے پیش آؤ۔مطلب یہ ہے کہ تم نے جب ماں باپ کے معاملے میں کوئی زیادتی دیکھی ہے تو عدل کے جھگڑے میں نہ پڑ جانا۔یہ سوچنا کہ اللہ نے تمہیں احسان کی تعلیم دی ہے اور احسان عدل سے بالا ہے احسان میں عدل کے بکھیڑوں میں نہیں انسان پڑتا بلکہ احسان کا مطلب ہے کہ کسی نے اگر کوئی زیادتی بھی کر دی ہے تو تم وسیع حوصلگی دکھا ؤ اس سے چشم پوشی کرو۔(خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995 ء روز نامہ الفضل ربوہ۔17 جولائی 1996ء)