جنت کا دروازہ — Page 30
30 انسان تھیں۔جب کبھی ابا جان امتحان کی تیاری کر رہے ہوتے تو وہ جائے نماز بچھا کر نوافل میں دعا کرتیں کہ کامیابی ان کے قدم چومے۔وہ میرے ابا جان کی بہت عزت کرتی تھیں ہی حال ابا جان کا تھا جب میرے والد نے نوبیل انعام جیتا تو اس سے ملنے والی رقم سے انہوں نے مستحق طلباء کے لئے ایک سکالرشپ جاری کیا جس کا نام محمد حسین و ہاجرہ حسین فاؤنڈیشن“ رکھا۔ابا جان کی یہ وصیت تھی کہ بعد از وفات ان کو والدین کی قبروں کے ساتھ کی جگہ میں دفنایا جائے چنانچہ اللہ کے خاص کرم سے قبرستان میں ان کے لئے قبر کی جگہ محفوظ کر لی گئی تھی ان کی رحلت کے بعد میں اور میرا بھائی (احمد سلام ) ان کے کاغذات دیکھ رہے تھے تو پتہ چلا کہ انہوں نے وصیت نامے میں ایک بات کا اضافہ کیا تھا جو یہ تھا۔اگر کسی وجہ سے مجھے ربوہ نہ لے جایا جا سکے تو میرے کتبہ پر یہ عبارت کندہ ہو اسکی خواہش تھی کہ وہ ماں کے قدموں میں دفن ہو"۔(الفضل ربوہ 3 جنوری 2001ء)