جنت کا دروازہ — Page 23
23 اسوہ رسول آنحضرت ﷺ کے والد محترم تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔اور آپ چھ سال کے تھے کہ آپ کی والدہ محترمہ بھی رحلت فرما گئیں۔اس طرح حضور ے کو تقدیر الہی کے ماتحت والدین کی براہ راست خدمت کا موقع تو نہیں ملا مگر ان کے لئے آپ کے دل میں محبت کے بے پناہ جذبات تھے جن کے ماتحت آپ مسلسل درد سے ان کے لئے دعائیں کرتے رہے۔مگر ان کی خدمت کے جذبہ کی تسکین آپ نے رضاعی والدین کی خدمت کر کے حاصل کی۔اور یہ نمونہ چھوڑا کہ اگر اصلی والدین زندہ ہوتے تو آپ ان کی خدمت میں کیا کیا کسر نہ اٹھا رکھتے۔حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ۔حضور ﷺ کی رضاعی والدہ حلیمہ مکہ میں آئیں اور حضور ﷺ سے مل کر قحط اور مویشیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا۔حضور ﷺ نے حضرت خدیجہ سے مشورہ کیا اور رضاعی ماں کو چالیس بکریاں اور ایک اونٹ مال سے لدا ہوا دیا۔طبقات ابن سعد جلد اول صفحه 113) ایک خاتون نے جنہوں نے حضور علی کو دودھ پلایا تھا حضور ا کے پاس مثل آنے کی اجازت طلب کی جب وہ حضور ﷺ کے پاس آئیں تو حضور ﷺ نے امی امی کہتے ہوئے ان کے لئے اپنی چادر بچھائی جس پر وہ بیٹھ گئیں۔(طبقات ابن سعد جلد 1 صفحہ 114) حضرت ابوالکفیل بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے بعد حضور سے بھرانہ مقام پر