جنت کا دروازہ — Page 129
:129 عزیزوں نے آزمانے کی کوشش نہ کی ہو۔اس کربناک صورت احوال اور درد انگیز کیفیت قلب و روح کے ساتھ آپ کو قادیان کی یا دستاتی۔ان دنوں صبر وتحمل کے ساتھ ساتھ شب و روز دعائیں کرتے اور فرماتے کہ ہر طرح کے ان مظالم میں میرے لئے دو باتیں ڈھارس تھیں پہلی یہ کہ حضرت مسیح موعود بہت دفعہ آیت قرآنی احسب الناس ان يتركوا۔۔۔۔۔پڑھتے اور اس کا مضمون بیان فرماتے جس سے زندگی کی جھلک اور اور امید کی لہر دوڑنے لگتی مشکلات اور اجتلاؤس پر فتح پانے اور غالب آنے کی قوت و عزم میسر آ جاتا اور دل کو غیر معمولی سکون و یقین ملتا۔دوسری بات حضرت مسیح موعود کا مشہور مقوله "خداداری چه غم داری سچا حوصلہ عطا کرنے کا ذریعہ تھی۔جسمانی تشدد ذہنی اذیت اور معاشرتی دباؤ ایک طرف دوسری طرف ترغیب و تحریص اور سمجھانے بجھانے کا سلسلہ رات کو جاری رہتا والدہ ہمشیرہ اور دونوں بھائی اپنی جدائی محبت اور مذہبی تعصب کے حوالے سے زور دیتے رہے کہ احمدیت کو ترک کرد د۔یہ سب کچھ تو والدین کے پاس پہنچ کر دیکھنا پڑا ادھر قادیان میں دو ہفتے کا کہہ کر آئے تھے اس لئے مہینوں کے گزرنے پر وہاں تشویش بڑھنے لگی۔حضرت مولوی خدا بخش صاحب جالندھری نے آپ کے حالات معلوم کرنے کا مصمم ارادہ کیا اور پر مشتمت مسافت طے کر کے آپ کے پاس پہنچے اور چوری چھپے حالات معلوم کر ھے واپس چلے گئے۔ایک لمبا عرصہ گزرنے کے ساتھ ساتھ والد صاحب نے آپ کو بھی اپنے ساتھ کام پر لگالیا تھا اور ارادہ کیا کہ ان کو الگ حلقہ لے دیں کہ انہی دنوں محکمانہ تبادلہ ہوا اور جلدی جلدی سب کو نئے ہیڈ کوارٹر لدھڑ نزد بہلول پور آنا پڑا۔اس دوران زیادہ مدد اور