جنت کا دروازہ — Page 128
128 یہ فیصلہ سن کر بھائی عبدالرحمن پر اپنے محبوب سے جدائی کا تصور جان لیوا ہونے لگا۔پرانے واقعات تازہ ہونے لگے۔جدائی کے عظیم صدمہ کے علاوہ گھر پہنچتے ہی شدید اذیتوں کا سامنا واضح تھا۔فوراً خلوت میں گئے اور چند منٹوں کے لئے خدائے گی و قیوم کے آستانہ پر جھکے روئے اور گڑگڑائے کہ موٹی اپنے فضل سے بہتری فرما۔میں تو ہر صورت میں تیرے مسیح کی اطاعت کروں گا۔دعا سے آپ کو ایک سکینت ملی۔حضرت حکیم نورالدین صاحب نے تجویز دی کہ بھائی عبدالرحیم صاحب کو ساتھ بھیج دیا جائے۔تو حضرت اقدس نے فرمایا اور اس وقت حضور کا چہرہ مبارک سرخ تھا اور آواز میں ایک جلال شوکت اور رعب تھا۔و نہیں مولوی صاحب! ہمیں نام کے (احمد یوں ) ضرورت نہیں ہمارا ہے تو آ جائے گا ورنہ کوڑا کرکٹ جمع کرنے سے کیا حاصل؟ قادیان دار الامان سے نکل کر ہر لمحہ اذیت ناک تھا۔دوران سفر تو والد صاحب کا رویہ نرم رہا اور چوری چھپے نماز پڑھ لینے کی اجازت دیئے رکھی مگر اپنے علاقہ میں پہنچتے ہی فضا یکسر بدل گئی۔بھائی عبدالرحمن صاحب چاروں طرف سے مصائب میں گھر گئے۔ماں اور باپ آپ کی زندگی کو ایک لعنت قرار دیتے ہوئے موت کی تمنا کرتے بہن بھائی سب خون کے پیاسے ہو گئے۔سب عزیز واقارب زبانی سختی اور طعن و تشنیع تک محدود نہ رہے بلکہ ہاتھوں اور لاتوں سے گزر کر چھڑیوں اور لاٹھیوں کے استعمال تک بات جا پہنچی۔چھریوں اور کلہاڑیوں تک سے آپ پر حملے ہوئے۔آپ کو گرا کر کئی رشتہ دار ا کٹھے چھاتی پر بیٹھ بیٹھ کر اذیت پہنچاتے۔اسی طرح کی شدید تکالیف کے سبب آپ یہاں آٹھ نو ماہ کے عرصہ قیام کو ہمیشہ نہایت درجہ درد و غم اور رنج وستم کا زمانہ قرار دیتے تھے۔کیونکہ ظلم و تشدد کا کوئی طریق نہ تھا جو آپ کے بزرگوں اور