جنت کا دروازہ — Page 87
87 ہے پھر الانسان بمعنی محمد رسول اللہ اس مضمون کو دوبارہ اٹھا لیا گیا اور یہ کہا گیا کہ جب وہ بلوغت کو پہنچا اور 40 سال کی عمر کو پہنچا اور 40 سال کی عمر آپ کی نبوت کی عمر تھی اس لئے 40 سال کا لفظ استعمال ہوا ہے ورنہ ہر انسان تو 40 سال کی عمر کو پہنچنے پر یہ بات نہیں کہا کرتا۔پس یقیناً قعطی طور پر یہاں حضرت اقدس رسول اللہ سے مراد ہیں اور آپ کا نقشہ بیان فرمایا ہے کہ آپ نبوت پانے کے بعد کیا دعا ئیں کیا کرتے تھے۔فرمایا (-) اے میرے رب ! مجھے توفیق عطا فرما کہ اس نعمت کا شکر یہ ادا کر سکوں جو تو نے مجھ پر کی اور اس نعمت کو تمام کر دیا۔( تمام کا مضمون لفظا ظاہر نہیں لیکن نبوت میں تمام کا لفظ شامل ہوتا ہے اس لئے تمام کا لفظ داخل کیا ) آیت کریمہ فرماتی ہے(۔) اے میرے رب! مجھے تو فیق عطا فرما کہ میں اس نعمت کا شکر یہ ادا کرتا رہوں۔شکر یہ ادا کر سکوں اس کی توفیق پاؤں جو تو نے مجھ پر فرمائی۔و علی والدی اور میرے والدین پر تو نے جو نعت کی ہے اس کا بھی میں شکر ادا کروں۔اب دیکھیں یہاں والدین سے آنحضرت ﷺ کے احسان کا یہاں ذکر نہیں فرمایا اس لئے کہ آپ کے والدین پہلے گزر چکے تھے۔یہ مضمون لگتا ہے دو دھاگوں سے بنا ہوا ہے کبھی عام ہو جاتا ہے بھی خاص ہو جاتا ہے۔عام ہو جاتا ہے تو تمام بنی نوع انسان پر پھیل جاتا ہے جب سمٹتا ہے تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں سمٹ آتا ہے۔آپ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے خدا! مجھ پر تو نے جو اتنا بڑا احسان فرمایا یہ توفیق عطا فرما کہ اس پر شکر کا حق ادا کر سکوں اور صرف اسی کا نہیں بلکہ اپنے والدین کی طرف سے بھی تیرا شکر ادا کروں۔صاف ظاہر ہے کہ والدین گزر چکے ہیں اور ان کو پتہ نہیں کہ کیا نعمت ان کو ملی ہے اور واقعہ آنحضرت ﷺ کے والدین گزر چکے تھے ان کو کیا پتہ تھا کہ ان کی صلب سے دنیا کا سب سے بڑا انسان پیدا ہونے والا ہے اور وہ ایسے