جنت کا دروازہ — Page 72
72 اس آیت میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے والدہ کے حقوق کا الگ اور خصوصی ذکر فر مایا گیا ہے۔یہی مضمون دیگر آیات اور احادیث میں بھی ملتا ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدہ کو مقدم رکھا ہے کیونکہ والدہ بچہ کے واسطہ بہت دکھ اٹھاتی ہے۔کیسی ہی متعدی بیماری بچہ کو ہو چپ ہو ہیضہ ہو طاعون ہوناں اس کو چھوڑ نہیں سکتی۔ہماری لڑکی کو ایک دفعہ ہیضہ ہو گیا تھا۔ہمارے گھر سے اس کی تمام قے وغیرہ پر میں بھی حجت اپنے ہاتھ پر لیتی تھیں۔ماں سب تکالیف میں بچہ کی شریک ہوتی ہے۔ی طبیعی محبت ہے جس کے ساتھ کوئی دوسری محبت مقابلہ نہیں کر سکتی۔( ملفوظات جلد چہارم جدید ایڈیشن صفحہ 289 حضرت خلیفہ امسح الاول اس مضمون کے تعلق میں فرماتے ہیں۔پہلے ماں باپ ہر دو کی طرف توجہ دلا کر پھر ساتھ ہی ماں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر شروع کر دیا کیونکہ عمو مالوگ باپ کی عزت تو کرتے ہیں مگر ماں کی خدمت کا حق ادا نہیں کرتے۔( حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 366 ) چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ماں کی خدمت کو بہت اہم قرار دیا ہے۔جنت ماں کے قدموں تلے ہے حضور ﷺ نے فرمایا الجنة تحت اقدام الامهات ( الجامع الصغیر 144 - از علامہ سیوطی المکتبہ الاسلامیہ سمندری پاکستان)