جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 73 of 143

جنت کا دروازہ — Page 73

73 مذکورہ بالا حدیث ماں کے قدموں تلے جنت ہے کا ذکر کرتے ہوئے ہندوستان کی مشہور لیڈر سروجنی نائیڈو نے اعتراف کیا سب سے زیادہ پیاری چیز جو اسلام ہندوستان میں لا یادہ یھی کہ۔ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔برگزیدہ رسول غیروں میں مقبول حصہ چہام صفحہ 45 ملک فضل حسین احمدی۔پبلشر سید محمد سعید بریلوی طبع اول دسمبر 1929ء) یہ حدیث رسول اللہ کے جوامع الکلم کا شاہکار ہے۔سید نا حضرت مصلح موعود اس کی تشریح میں فرماتے ہیں۔یہ حدیث کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے یہ بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر ماں اچھی تربیت کرے تو اچھی نسل پیدا ہوگی اور جو انعامات باپ حاصل کرے گا وہ دائمی ہو جائیں گے۔لیکن اگر ماں اچھی تربیت نہیں کرے گی تو باپ کے کمالات باپ تک ختم ہو جائیں گے اور دنیا کو جنات عدن حاصل نہیں ہونگی۔یہی مفہوم اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے جو معاویہ بن جاہمہ سے مروی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ مجھے اجازت دیکھیئے کہ میں فلاں جہاد میں شامل ہو جاؤں آپ نے فرمایا۔کیا تیری ماں زندہ ہے۔اس نے کہا۔ہاں حضور زندہ ہے۔آپ نے فرمایا فَالزِمُهَا فَإِنَّ الجَنَّةَ تَحْتَ رجُلَيْهَا۔(نسائی جلد ۲ کتاب الجہاد ) جا اور اسی کے پاس رہ کیوں کہ اس کے قدموں میں جنت ہے۔معلوم ہوتا ہے اس میں بعض ایسے نقائص تھے جن کے متعلق رسول کریم ے سمجھتے تھے کہ اگر وہ ماں کی صحبت میں رہا تو اس کی عمدہ تربیت سے وہ دور ہو جائیں گے۔ممکن ہے اس میں تیزی اور جوش کا مادہ زیادہ ہو اور رسول کریم ﷺ نے یہ سمجھا