جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 56 of 143

جنت کا دروازہ — Page 56

56 رہتا زیادہ زود رنج ہو جاتا ہے اور بہت سی صحت کی کمزوریاں اس کے مزاج میں چڑ چڑا پن پیدا کر دیتی ہیں۔پھر کئی قسم کے احساسات محرومی ہیں۔اولاد بڑی ہو گئی۔اپنے گھروں میں آباد ہو گئی اور جس طرح والدین توقع رکھتے ہیں کہ یہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی ویسا ہی معاملہ کرے گا اس میں کوئی کو تا ہی رہ جاتی ہے یا والدین کو وہم گزرتا ہے کہ ہم سے ویسا پیار نہیں جیسا اپنی بیوی اور اولا د سے ہے تو ان تمام باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن کریم نے بڑی حکمت کے ساتھ فرمایال انقل لهما اف ایسی باتیں ہوں گی جن کے نتیجے میں ہو سکتا ہے تمہیں جائز یا نا جائز شکایت پیدا ہو اور والدین تم سے بظاہر سختی کا سلوک کرنا شروع کر دیں تو تم جو بچپن کی نرمی کے عادی ہو اس سلوک سے گھبرا کراف نہ کہہ بیٹھنا۔اف کا لفظ کوئی گالی نہیں ہے۔کوئی سخت کلامی نہیں ہے۔ایک اظہار افسوس ہے۔فرمایا کہ اظہار افسوس تک نہیں کرنا۔ولا تنهر هـمـا اور جھڑکنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اپنے والدین کے ساتھ ہر گز سخت کلامی نہیں کرنی۔وقل لهما قولا کریما اور ان کے ساتھ عزت کا کلام کرو۔ہمیشہ احترام کے ساتھ ان سے مخاطب ہوا کرو۔واخــفــض لهما جناح الذل اور اپنی نرمی کے پر ان کے اوپر پھیلا دو۔من الرحمة رحمت کے اور نرمی کے یا رحمت کے نتیجے میں جونرمی پیدا ہوتی ہے اس کے پر ان پر پھیلا دو اور پھر یہ دعا کرو۔کہ اے میرے رب! ان پر اسی طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں بڑے رحم کے ساتھ میری تربیت فرمائی ہے۔یہ بہت ہی پیاری اور کامل دعا ہے اور بہت سی ذمہ داریوں کی طرف جو اولاد کے ذمہ اپنے والدین کے لئے ہیں، ہمیں توجہ دلاتی ہیں لیکن اس دعا میں اور بھی بہت سی