جنت کا دروازہ — Page 55
55 مد مصطفی میں ہے اور آپ کی امت کو سکھائی۔دعا تو یہ ہے (۔) (بنی اسرائیل: 25) اے میرے رب! دونوں پر میرے والد اور میری والدہ پر اس طرح رحم فرما جس طرح بچپن سے یہ میری تربیت کرتے چلے آئے ہیں۔لیکن اس دعا کی گہرائی کو سمجھنے کے لئے اس کا وہ پس منظر جانا ضروری ہے جو یہی آیت کریمہ ہمارے سامنے کھول کر رکھ رہی ہے۔پس پوری آیت کو پڑھنے کے بعد اس دعا کی اہمیت بھی سمجھ آتی ہے اور کن کن باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ دعا کرنی چاہئے یہ مضمون بھی ہم پر روشن ہو جاتا ہے۔آیت یہ ہے وقضی ربک الا تعبدوا الا اياه و بالوالدین احساناً کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر فرما دیا ہے یہ فیصلہ کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی بجائے ریک لفظ ہے یعنی اے محمد ہے تیرے رب نے یہ فیصلہ صادر فرما دیا ہے۔الا تعبدوا الا ایساہ کہ تم اس کے سواکسی کی عبادت نہ کرو۔و بالوالدین احسانا اور والدین کے ساتھ احسان کا سلوک کرو۔والدین کے ساتھ نیکی کے برتاؤ کی اتنی بڑی اہمت ہے کہ توحید کی تعلیم کے بعد دوسرے درجے پر خدا نے جس بات کا فیصلہ فرمایا وہ یہ تھا کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔احسان کا لفظ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے اس کے متعلق میں پھر دوبارہ آپ سے بات کروں گا۔اگر ان میں سے کوئی تیرے ہوتے ہوئے تیری زندگی میں بڑھاپے تک پہنچ جائے ان میں سے خواہ ایک پہنچے یا دونوں پہنچیں فلا تقل لهما اف ان کو اف تک نہیں کہتی۔اف نہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے بڑھاپے میں ایسی حرکتیں ہو سکتی ہیں جو ان کے بچپن کے سلوک سے مختلف ہوں۔بچپن میں تو وہ بڑی رحمت کے ساتھ تمہاری تربیت کرتے رہے لیکن بڑھاپے کی عمر میں پہنچ کر انسان کو اپنے جذبات پر اختیار نہیں