جنت کا دروازہ — Page 47
47 اس فرض الہی کی تعمیل سے کس طرح سبکدوش ہو سکتا ہوں۔فرمایا کہ:۔" قرآن شریف جہاں والدین کی فرمانبرداری اور خدمت گزاری کا حکم دیتا ہے وہاں یہ بھی فرماتا ہے کہ (۔) بنی اسرائیل : 26 ) اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اگر تم صالح ہو تو وہ اپنی طرف جھکنے والوں کے واسطے غفور ہے۔صحابہ (رضوان اللہ میم ) کو بھی ایسے مشکلات پیش آگئے تھے کہ دینی مجبوریوں کی وجہ سے ان کی ان کے والدین سے نزاع ہو گئی تھی۔بہر حال تم اپنی طرف سے ان کی خیریت اور خبر گیری کے واسطے ہر وقت تیار رہو۔جب کوئی موقعہ ملے اسے ہاتھ سے نہ دو۔تمہاری نسیت کا ثواب تم کومل کے رہے گا۔اگر محض دین کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرنے کے واسطے والدین سے الگ ہونا پڑا ہے تو یہ ایک مجبوری ہے۔اصلاح کو مد نظر رکھو اور نیت کی صحت کا لحاظ رکھو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو۔یہ معاملہ کوئی آج نیا نہیں پیش آیا۔حضرت ابراہیم کو بھی ایسا واقعہ پیش آیا تھا۔بہر حال خدا کا حق مقدم ہے۔پس خدا تعالی کو مقدم کرو اور اپنی طرف سے والدین کے حقوق ادا کرنے کی کوشش میں لگے رہو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو۔“ ملفوظات جلد پنجم جدید ایڈیشن صفحہ 450) والد کی بیعت حضرت میاں اللہ دتہ صاحب فرماتے ہیں۔میں نے حضرت اقدس سے دعا کی درخواست کی کہ میرا والد سلسلہ کا سخت مخالف ہے حضرت اقدس نے دریافت کیا کہ اس کا کیا نام ہے میں نے اس کا نام جمال الدین بتایا اور پھر میرا نام دریافت کیا تو اللہ دتہ بتایا حضرت اقدس نے فرمایا کہ تم دعاؤں میں لگے رہو اور ہم بھی دعا کریں گے۔اللہ تعالٰی دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا۔اور پھر