جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 37 of 143

جنت کا دروازہ — Page 37

37 خیال سے کہ بیٹا الگ ہو جائے گا رضا مندی ظاہر نہ کی۔اور جب انہوں نے شادی کر لی تو اکثر اوقات بہو پر سختی کرتیں اور شیخ صاحب کچھ عرض کرتے تو برا منا تیں۔شیخ صاحب بیان کرتے ہیں کہ آخر میری والدہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں قادیان حاضر ہوئیں اور نہ معلوم حضور سے کیا کیا میری شکایت کی۔جب وہ واپس آئیں تو حضور کے دست مبارک کا ایک خط ساتھ لائیں۔جس پر حضور نے اپنے دستخط کرنے کے علاوہ اپنی مہر اور نشان انگوٹھا بھی ثبت فرمایا تھا۔حضور کا مکتوب گرامی یہ تھا۔مجھ کو یہ بات سن کر بہت رنج ہوا۔اور دل کو سخت صدمہ پہنچا۔کہ تم اپنی والدہ مسماۃ نکی کی کچھ خدمت نہیں کرتے اور سختی سے پیش آتے ہو اور دھکے بھی دیتے ہو۔تمہیں یاد رہے کہ یہ طریق اسلام کا نہیں۔خدا اور اس کے رسول کے بعد والدہ کا وہ حق ہے جو اس کے برابر کوئی حق نہیں۔خدا کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جو والدہ کو بد زبانی سے پیش آتا ہے اور اس کی خدمت نہیں کرتا۔اور نہ اطاعت کرتا ہے وہ قطعی دوزخی ہے پس تم خدا سے ڈرو۔موت کا اعتبار نہیں ہے ایسا نہ ہو کہ بے ایمان ہو کر مرو۔حدیثوں میں آتا ہے کہ بہشت ماں باپ کے قدموں کے نیچے ہے۔اور ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص کی والدہ کو رات کے وقت پیاس لگی تھی۔اس کا بیٹا اس کے لئے پانی لے کر آیا۔اور وہ سوگئی۔بیٹے نے مناسب نہ سمجھا۔کہ اپنی والدہ کو جگادے تمام رات پانی لے کر اس کے پاس کھڑا رہا۔کہ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی وقت جاگے اور پانی مانگے۔اور اس کو تکلیف ہو۔خدا نے اس خدمت کے لئے اس کو بخش دیا۔سو سمجھ جاؤ کہ یہ طریق تمہارا اچھا نہیں ہے۔اور انجام کار ایک عذاب میں گرفتار ہو جاؤ گے۔اور اپنی عورت کو بھی کہو کہ تمہاری والدہ کی خدمت کرے اور بد زبانی نہ کرے۔اور اگر باز نہ آوے تو اس کو طلاق دے دو۔اگر تم میری ان نصیحتوں پر عمل نہ کرو۔تو میں خوف کرتا ہوں کہ عنقریب تمہاری موت کی خبر