جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 15 of 143

جنت کا دروازہ — Page 15

15 ہے کہ ایک باپ کو اپنا بچہ بہت پیارا تھا۔ایک دفعہ اس نے اس کے کمرے کی تلاشی لی دیکھا کہ کیا جمع کرتا ہے۔اس میں بہت پھٹے پرانے بڑے سائز کے کپڑے پڑے ہوئے تھے۔تو باپ نے حیرت سے پوچھا:۔بیٹا ! تم نے اپنے کمرے میں یہ کیا گند جمع کیا ہوا ہے۔اس نے کہا یہ آپ کے لئے ہے۔جس طرح آپ نے میرے دادا کے لئے گندے کپڑے رکھے ہوئے تھے تو میں نے کہا وہی سلوک آپ سے ہونا چاہئے۔جب آپ بڑی عمر کو پہنچیں گے تو آپ کو میں یہی کپڑے پہناؤں گا جو آپ میرے دادا کو پہنایا کرتے تھے۔تو یہ ایک سبق آموز بات ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے واقعۂ لوگ اپنے باپ سے اور بعض دفعہ اپنی ماؤں سے ایسا سلوک کرتے ہیں جو نہایت تا قابل برداشت ہے۔تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی یہ نصیحت میں ان کو پہنچا دیتا ہوں کہ اگر تم نے ماں باپ یا دونوں کے قدموں سے جنت نہ لی تو ساری عمر ضائع کر دی اور اس کے متعلق ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ اگر رمضان گزر جائے اور کوئی شخص جنت نہ کما سکے اس پر بھی تف ہے۔پس ابھی رمضان بھی گزرا ہے اس کے پس منظر میں یہ بھی یادر کھیں کہ ماں باپ کی خدمت کی جتنی توفیق مل سکے اور ضرور کریں۔باپ کے متعلق تو کہہ سکتے ہیں کہ بعض دفعہ وہ اولاد پرختی بھی کرتا ہے نا ئیں بھی کرتی ہیں مگر جیسا دل ماں کا نرم ہے ایسا بچے کے لئے اور کسی کا دل نرم نہیں ہوتا۔سورۃ دھرآیت 9 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الفضل ربوه 2 مئی 2000ء ) ويطعمون الطعام على حبه مسكينا ويتيما و اسيرا اور وہ کھانے کو اس کی چاہت کے ہوتے ہوئے مسکینوں اور قیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔