جنت کا دروازہ — Page 16
16 حضرت مسیح موعود اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔اس آیت میں مسکین سے مراد والدین بھی ہیں کیونکہ وہ بوڑھے اور ضعیف ہو کر بے دست و پا ہو جاتے ہیں اور محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالنے کے قابل نہیں رہتے اس وقت ان کی خدمت ایک مسکین کی خدمت کے رنگ میں ہوتی ہے اور اسی طرح اولا د جو کمزور ہوتی ہے اور کچھ نہیں کر سکتی اگر یہ اس کی تربیت اور پرورش کے سامان نہ کرے تو وہ گویا یتیم ہی ہے پس ان کی خبر گیری اور پرورش کا تہیہ اسی اصول پر کرے تو لملفوظات جلد 3 صفحہ 599) ثواب ہوگا۔سید نا حضرت خلیفہ مسیح الرابع اس تسلسل میں فرماتے ہیں۔یہ ایک بہت ہی عارفانہ نکتہ ہے جو پہلے کسی عالم کو نہیں سوجھا کہ اس میں مسکین سے مراد والدین بھی ہیں۔جو اپنی دلی مسکینی اور عاجزی کی وجہ سے بچوں سے کچھ مطالبہ نہیں کرتے، کچھ نہیں کہتے کہ ان کو کیا ضرورت ہے۔تو ایسے بچوں کو چاہئے کہ خود اپنے والدین کی احتیاجوں اور ضرورتوں پر نگاہ رکھیں اور ان کی ہر ضرورت کو ان کے مانگنے سے پہلے دے دیا کریں۔کیونکہ مسکین وہ ہے جو مانگتا نہیں، غربت اور بد حالی کے باوجود مانگتا نہیں۔اور ان کے اس تعفف کی وجہ سے بعض لوگ ان کو اغنیاء سمجھ لیتے ہیں۔تو سب سے پہلے تو ماں باپ کی ضرورتوں پر دھیان ہونا چاہئے۔ان کو موقعہ ہی نہیں دینا چاہئے کہ ان کو مانگنے کی ضرورت پڑے اور مسکین سمجھتے ہوئے یعنی دل کے مسکین سمجھتے ہوئے ان کی ضرورت کو مانگنے سے پہلے ہی پورا کر دینا چاہئے۔الفضل 2 مئی 2000ء)