جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 116 of 143

جنت کا دروازہ — Page 116

116 حیرت انگیز نمونے اس آیت کی تعمیل میں صحابہ رسول اے اور بزرگوں نے عظیم الشان اور حیرت انگیز نمونے دکھائے ہیں۔اگر سو جانیں ہوں حضرت سعد بن ابی وقاص اپنی والدہ کے بے حد فرمانبردار اور خدمت گزار تھے۔انیس سال کا سن تھا کہ آپ کو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ماں کو علم ہوا تو اسے سخت رنج ہوا اور اس نے قسم کھائی کہ جب تک سعد نئے دین کو نہ چھوڑیں گے میں نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی اور نہ ان سے بات چیت کروں گی چنانچہ اس قسم کو پورا کیا حتی کہ تیسرے دن بے ہوش ہو گئی اور نقاہت کی وجہ سے اسے خش پرفش آنے لگے۔اسے اپنے سعادت مند فرزند سے یہ امید تھی کہ اسے مسلسل فاقہ اور تکلیف کی حالت میں دیکھ کر اس کا کہا ضرور مان لے گا اور دین حق سے برگشتہ ہو جائے گا اور ایمان کو اس کی خوشنودی پر قربان کر دے گا لیکن ایمان کا نشہ وہ نہ تھا جو ایسی ترشیوں سے اتر جاتا گوان پر سخت ابتلاء تھا۔ایک طرف ماں کی جان کا خیال تھا اور دوسری طرف ایمان کے ضائع ہونے کا۔ان حالات میں دنیا دار لوگ اپنی ماں کو کسی عقیدہ پر قربان کرنے کے لئے بہت کم تیار ہو سکتے ہیں۔لیکن حضرت سعد ایمان کو ماں کی جان سے بہت زیادہ قیمتی سمجھتے تھے چنانچہ ماں کی اس دھمکی کا ان پر کوئی اثر نہ ہو اور اسے صاف کہہ دیا کہ اگر تمہارے قالب میں سو جانیں بھی ہوں اور ایک ایک کر کے ہر ایک جان نکل جائے تو بھی میں اپنے دین کو نہ چھوڑوں گا۔(اسد الغابہ جلد 2 صفحہ 292 ابن اثیر جزری۔مکتبہ اسلامیہ طہران)