جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 115 of 143

جنت کا دروازہ — Page 115

115 کے مقابلہ میں اگر وہ کچھ کہیں تو ہر گز نہ مانو۔فرمانبرداری کا پتہ مقابلہ کے وقت لگتا ہے۔کہ آیا فرماں بردار اللہ کا ہے یا کہ مخلوق کا۔ماں باپ کی فرماں برداری کا خدا نے اعلیٰ مقام رکھا ہے اور بڑے بڑے تاکیدی الفاظ میں یہ حکم دیا ہے۔ان کے کفر و اسلام اور فسق و فجور یا دشمن اسلام وغیرہ ہونے کی کوئی قید نہیں لگائی اور ہر حالت میں ان کی فرمانبرداری کا تاکیدی حکم دیا ہے۔مگر مقابلہ کے وقت ان کے متعلق بھی فرما دیا کہ (-) اگر خدا کے مقابلہ میں آجاویں تو خدا کو مقدم کرو۔ان کو ہرگز نہ مانو غرض نفس ہو یا دوست ہوں۔رسم ہو یا رواج ہوں۔قوم ہو یا ملک ہو۔ماں باپ ہوں یا حاکم ہوں۔جب وہ خدا کے مقابلہ میں آجاویں یعنی خدا ایک طرف بلاتا ہے اور یہ سب ایک طرف تو خدا کو مقدم رکھو۔(حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ (231) حضرت مصلح موعود کا ارشاد ہے۔فرماتا ہے۔ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق بڑی تاکید کی ہے کہ ان سے نیک سلوک کیا جائے۔ہاں اگر وہ تم سے اس بات کے لئے جھگڑیں کہ تم کسی کو میرا شریک قرار دے دو۔جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تو پھر ان کی بات نہ مانو۔یعنی مومن کو جب اس کے ماں باپ سے اچھا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ مومن خدا تعالیٰ سے جو ماں باپ سے بھی زیادہ حسن ہے اچھا معاملہ نہ کرے۔اور جب ماں باپ خدا تعالیٰ کے خلاف کوئی بات کہیں تو ان کی بات کو رد نہ کرے۔بہر حال اس استثناء کے سواہر انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور ان کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کرے۔تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 592 نظارت اشاعت ربوہ )