جماعت احمدیہ کی ملی خدمات — Page 29
۲۹ ملت اسلامیہ کی عمارت در اصل اس ترتیب قائم ہے کہ پہلے قرآن پھر رسول اللہ کی شدت " ازاں بعد اُن کا ایک بیان روزنامه سیم لاہورے ارمٹی ۱۹۵۵ء صلے میں شائع ہوا جس میں انہوں نے شدت و حدیث کی بعینہ وہی تشریح کی جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے بیان فرمائی تھی۔موصوف کے الفاظ یہ تھے کہ : سنت اُس طریقے کو کہتے ہیں جسے حضور نے خود اختیار فرمایا اور اُمت میں اُسے جاری کیا۔۔۔۔اس کے برعکس حدیث سے مراد روایات ہیں۔" میرے قابل صد احترام بزرگو! اور بھائیو !! آپ یہ معلوم کر کے بہت حیران ہوں گے کہ مسلم زیما حضور کے اسلامی نظریات کی خوشہ چینی ہی نہیں کر رہے بلکہ آپ کی لاجواب اور اثر انگیز تحریرات و منظومات کو خود اپنی طرف منسوب کر کے شائع بھی کئے جارہے ہیں اور یہ متوازی سلسلہ ایک عرصہ سے پوری شد و مد کے ساتھ جاری ہے۔بطور نمونہ صرف چند مثالیں ملاحظہ ہوں :- ایک عرصہ ہوا کہ مولوی جان محمد صاحب ایم اے سابق