جماعت احمدیہ کی ملی خدمات — Page 45
۴۵ مسلمانان ہند کو انگریزی حکومت سے لڑنا نہیں چاہئیے۔نیز سلطان العظم نے انگریزی افواج کو مصر سے گزر کر ہندوستان پہنچنے کی اجازت بھی عطا فرمائی تا ہنگامہ فرو کیا جاسکے۔تاریخ اقوام عالم ص۱۳۹ از مرتضی احد خان، ترکوں کے ارضنوں پر فرضی مظالم ص ۲۳ ناشر مجلس خلافت ) اسی زمانہ میں مکہ سے تشفی ، شافعی اور مالکی مکتبہ فکر کے مفتیان عظام نے متفقہ طور پر ہندوستان کے دارالاسلام ہونے کا اعلان کیا۔( "سید عطاء الله شاه بخاری ها ۱۳ از جناب شورش کا شمیری) بالکل یہی موقف برطانوی ہند کے مشہور علماء مثلاً حضرت مولانا عبد الحي صاحب حنفی لکھنوی اور مولانا احمد رضاخاں حنفی نے اختیار فرمایا " مجموع فتاوی مولوی عبدالحی لکھنوی جلد ۲ ص۲۳۵ و نصرت الابرار ۲ مطبوعہ صحافی پریس لاہور ایچیسن پنج ۱۲۹۸هر ) ۲۵ ۱۸۷۱ء میں مولانا نذیر حسین صاحب دہلوی شیخ الکل نے اپنے مفصل فتوئی میں لکھا کہ :۔اس زمانہ میں جہاد کی شرطوں میں سے کوئی مشرط بھی موجود نہیں ہے تو کیونکر جہاد ہوگا۔ہرگز نہیں ہو گا۔علاوہ بریں ہم لوگ معاھد ہیں بر کار