جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 49
49 ۸۰ : ΔΙ پر لاہور لیکچر سیالکوٹ احمدی و غیر احمدی میں فرق ۸۳ بیچر لدھیانہ ۸۴ الوصیت ۸۵ چشمه مسیحی تجلیات الهیه ۸۷ قادیان کے آریہ اور ہم ۸۸ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۸۹ حقیقة الوحی ۹۰ چشمه معرفت ۹۱ پیغام صلح ۳ ستمبر ۱۹۰۴ء ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۴ء ۲۷ / دسمبر ۱۹۰۵ء ۴ نومبر ۱۹۰۵ء ۲۰ دسمبر ۱۹۰۵ء ۹ / مارچ ۱۹۰۶ء ۱۵ مارچ ۱۹۰۷ء ۲۰ فوری ۱۹۰۷ء فروری ۱۹۰۵ء ١٩٠٦ء جنوری ۱۹۰۸ء مئی ۱۹۰۸ء ۵۴ ۴۶ ۶۱ ۵۰ ۳۴ ۶۰ ۲۴ ۴۴ ۵۲۸ ۷۲۰ ۴۳۶ ۶۴ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی تحریرات کے چند نمونے زنده خدا اللہ جل شانہ کا حسن، اس کی ذات اور صفات کی خوبیاں یہ ہیں کہ وہ خیر محض ہے اور مبدا ہے جمیع فیضوں کا اور مصدر ہے تمام خیرات کا اور جامع ہے تمام کمالات کا اور مرجع ہے ہر ایک امر کا اور موجد ہے تمام وجودوں کا اور علت العلل ہے ہر یک مؤثر کا جس کی تاثیر یا عدم تا ثیر ہر یک وقت اس کے قبضہ میں ہے۔اور واحد لاشریک ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور اقوال میں اور افعال میں اور اپنے تمام کمالوں میں اور از لی اور ابدی ہے اپنی جمیع صفات کا ملہ کے ساتھ۔بڑا ہی نیک اور بڑا ہی رحیم ، باوجود قدرت کا ملہ سزا دہی کے، ہزاروں برسوں کی خطائیں یکدم کے رجوع میں بخشنے والا، بڑا ہی حلیم اور بردبار اور پردہ پوش کروڑ ہا نفرت کے کاموں اور مکر وہ گنا ہوں کو دیکھنے والا پھر جلد نہ پکڑنے والا۔۔۔اس نے ہر یک خوبصورت چیز پر اپنے حسن کا پر تو ڈالا ہے اگر آفتاب ہے یا ماہتاب یا وہ