جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 50 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 50

50 سیارے جو چمکتے ہوئے نہایت پیارے معلوم ہوتے ہیں یا خوبصورت انسانوں کے منہ جو دلکش اور ملیح دکھائی دیتے ہیں یا وہ تازہ اور تر بتر اور خوشنما پھول جو اپنے رنگ اور ی اور آب و تاب سے دلوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں یہ سب در حقیقت ظلی طور پر اس حسن لا زوال سے ایک ذرہ کے موافق حصہ لیتے ہیں وہ حسن ظن اور وہم اور خیال نہیں بلکہ یقینی اور قطعی اور نہایت روشن ہے جس کے تصور سے تمام نظریں خیرہ ہوتی ہیں اور پاک دل اس کی طرف کھینچتے ہیں۔“ آئینہ کمالات اسلام ص ۱۶۰-۱۶۱) کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لئے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں کس دف سے بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔“ (کشتی نوح ص ۴۴) اس کی قدرت و حکمت ہر جگہ اور ہر چیز میں موجود ہے اور اس کی حفاظت جو ہر یک چیز کے شامل حال ہے اس کی عام خالقیت پر گواہ ہے اس کی حکیمانہ طاقتیں بے انتہا ہیں۔کون ہے جو ان کی تہ تک پہنچ سکتا ہے۔اس کی قادرانہ طاقتیں عمیق در عمیق ہیں کون ہے جو ان پر احاطہ کر سکتا ہے ہر یک چیز کے اندراس کے وجود کی گواہی چھپی ہوئی ہے ہر ایک مصنوع اس صانع کامل کی راہ دکھلا رہا ہے موجود بوجود حقیقی، وہی ایک رب العالمین ہے اور باقی سب اس سے پیدا اور اس کے سہارے سے قائم اور اس کی قدرتوں کے نقش قدم ہیں“۔(سرمه چشم آریہ ص ۳) نظم زنده خدا کس قدر ظاہر ہے نُور اس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا تھا نشاں اس میں جمال یار کا کیونکہ کچھ کچھ