جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 39
39 خان صاحب کی پہلی بیگم صاحبہ سے دوسرے صاحبزادے تھے مورخہ ۷/ جون ۱۹۱۵ء کومسجد اقصی قادیان میں مبلغ پندرہ ہزار روپے مہر پر ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ہدایت کے مطابق خطبہ نکاح حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیلی نے پڑھا۔جو اس تقریب سعید میں لاہور سے مدعو کئے گئے تھے اور مورخہ ۲۳ فروری ۱۹۱۷ء کو آپ کی شادی کی مبارک تقریب عمل میں آئی۔حضرت سیدہ موصوفہ کے بطن سے تین فرزند اور چھ صاحبزادیاں پیدا ہوئیں۔حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ بہت خوبیوں کی مالک تھیں۔آپ انفاق فی سبیل اللہ میں بہت نمایاں تھیں۔آپ کو ۱۹۶۲ء میں یورپ کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔اس دوران آپ کو بیت محمود زیورچ سوئٹزر لینڈ کا سنگ بنیاد رکھنے کی بھی توفیق ملی۔اس کے علاوہ آپ کے اس دورہ سے یورپ کی جماعتوں نے بہت زیادہ برکات حاصل کیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صلبی اولا د مبارکہ کی آخری نشانی پیارے آقا کی دخت کرام، حضرت اماں جان کی لخت جگر حضرت سیدہ نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ مورخہ ۶ رمئی ۱۹۸۷ء کو بوقت تین بجے دوپہر اپنے مولائے حقیقی سے جاملیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون حضرت سیدہ نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نوراللہ مرقدھا کی ذات گرامی آخری نشانی تھی بابرکت اولاد کی کہ جس کے ساتھ براہ راست وعدوں کا خزانہ تھا۔آخری تبرک تھا اس پیارے امام کا ، کہ جس کے شیدائی برکت کے حصول کیلئے ٹوٹے پڑتے تھے۔آخری کرن تھی اس جلیل القدر ہستی کی ، جس کی ایک جھلک پا کر لاکھوں پروانے قربان ہو ہو جاتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے ارشاد کے مطابق آپ کی نماز جنازہ وفات کے اگلے روز مورخہ سے مئی ۱۹۸۷ء بروز جمعرات بوقت ۵ بجے بعد نماز عصر حضرت مولوی محمد حسین صاحب سبز پگڑی والے نے پڑھائی۔اس کے بعد قطعه خاص بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی اور حضرت مولوی صاحب نے ہی تدفین مکمل ہونے کے بعد دعا کروائی۔آپ کی نماز جنازہ اور تدفین میں پاکستان بھر سے ۳۰ ہزار کے قریب مردوزن نے شمولیت کی۔اللَّهُمَّ نَوْرُ مَرْقَدَهَا وَارْفَعُ دَرَجَتِهَا۔