جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 38 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 38

38 اوران کے ساتھ کی ہے ایک دختر وہ نیک اختر کچھ پانچ کی ہے کلام اللہ کو پڑھتی ہے فرافر خدا کا فضل اور حمت سراسر آپ نے کی سکول سے با قاعدہ طور پر تعلیم حاصل نہیں کی تھی البتہ حضرت پیر منظورمحمد صاحب سے تقریباً تین سال کی عمر میں اردو اور انگریزی کی ابتدائی تعلیم یعنی لکھنا پڑھنا سیکھنا شروع کیا اور بہت جلداردو و انگریزی لکھناو پڑھنا سیکھ لیا۔آپ نے عربی اور فارسی بھی گھر پر ہی سیکھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ بہت علم دوست خاتون تھیں۔نیز آپ بلند پایہ شاعرہ بھی تھیں۔آپ کا کلام’د عدن“ کے نام سے شائع شدہ ہے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا رشتہ خدائی بشارتوں کے بموجب حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے ساتھ طے پایا۔آپ کے نکاح کا اعلان حضرت حافظ حکیم مولوی نور الدین صاحب نے مورخہ ۷ار فروری ۱۹۰۸ء کو مسجد اقصیٰ قادیان میں مبلغ ۵۶ ہزار روپے مہر موجل کے عوض کیا۔آپ کا رخصتانہ انتہائی سادگی کے ساتھ مورخہ ۱۴ مارچ ۱۹۰۹ء کو قادیان میں ہوا۔آپ اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمدہ تربیت سے ایک مثالی بیوی ثابت ہوئیں۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے ہاں۲ بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ مورخہ ۲-۲۳ مئی ۱۹۷۷ء کی درمیانی شب انی سال کی عمر پا کر بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ خاص میں ہزاروں مخلصین کی دعاؤں کے ساتھ مورخہ ۲۳ مئی کو دفن ہوئیں۔اللَّهُمَّ نَورُ مَرْقَدَهَا وَارْفَعُ دَرَجَتِهَا۔حضرت سیدہ نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ حضرت سیدہ نواب لمتہ الحفیظ بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبشر اولاد میں سے آخری وجود تھیں۔آپ کی ولادت با سعادت مورخہ ۲۵ جون ۱۹۰۴ء کو ہوئی۔آپ کی پیدائش بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے موصولہ بشارت کے مطابق ہوئی۔جس سے آپ کا بابرکت وجود بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک نشان ثابت ہوا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کومئی ۱۹۰۴ء میں الہام ہوا ” دخت کرام (البدر ۱۶/ ۱۸ مئی ۱۹۰۴ صفحہ۱) چنانچہ اس الہی بشارت کے مطابق آپ کی ولادت ہوئی۔حضور علیہ السلام نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۱۸ میں ان کو اپنی صداقت کا چالیسواں نشان قرار دیا۔حضرت سیدہ موصوفہ کا نکاح حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کے ساتھ جو حضرت نواب محمد علی