جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 605
605 جماعت احمدیہ کی مخالفت حضرت بانی سلسلہ کے دعوئی مہدویت و مسیحیت کے ساتھ ہی آپ کی مخالفت شروع ہوگئی۔اور مخالفت انبیاء کی تمام تاریخ دہرائی گئی۔آپ کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے اور قتل کے منصوبے بنائے گئے۔علماء نے آپ کے خلاف کفر والحاد کے فتوے صادر کر دیئے۔بزرگان امت کی امام مہدی سے متعلق پیشگوئیاں حرف بحرف پوری ہوئیں۔چنانچہ حضرت محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں:۔إِذَا خَرَجَ هَذَا الْاِمَامُ الْمَهْدِى لَيْسَ لَهُ عَدُوٌّ مُبِينٌ إِلَّا الْفُقَهَاءُ خَاصَّةً۔(فتوحات مکیہ جلد ۳ ص ۳۳۶) یعنی امام مہدی جب دنیا میں ظاہر ہوگا تو اس کے شدید مخالف اس زمانہ کے علماء ہوں گئے۔جناب نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں :۔علماء وقت گویند این مردخانه برانداز دین وملت ماست و بمخالفت برخیزند بحسب عادت خود هم بتکفیر و ( حج الكرامه ص۳۶۳) یعنی اس زمانہ کے علماء امام مہدی کے بارہ میں کہیں گے کہ یہ شخص ہمارے دین اور مذہب کے مخالف تضلیل کنند 66 ہے اور وہ اس کے دشمن ہو جائیں گے اور حسب عادت اس پر کفر و ضلالت کا فتویٰ لگائیں گے۔ان پیشگوئیوں کے عین مطابق حضرت بانی سلسلہ پر کفر کے فتوے لگائے گئے اس طرح یہ فتوے آپ کی صداقت کو ظاہر کرنے کا باعث بنے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کے علاوہ آپ کے متبعین کو بھی ہر لحاظ سے ستایا گیا۔ان کی مذہبی آزادی کو پامال کیا گیا۔اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا۔ان کے نفوس و اموال کو مباح قرار دے کر ان کو واجب القتل ٹھہرایا گیا۔ظالمانہ طرز پر وہ شہید کئے گئے۔اذیت ناک جسمانی سزائیں دی گئیں۔دکانیں لوٹی گئیں۔تجارتیں برباد کر دی گئیں۔اور گھر جلا دیئے گئے۔غرضیکہ مخالفت کا ہر وہ ذریعہ اختیار کیا گیا جس کا مقصد آپ کے پیغام اور آپ کی جماعت کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ کے خلاف کئی باقاعدہ تحریکیں بھی چلائی گئیں جن میں ۱۹۳۴۷ء ،۱۹۵۳ء ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریکیں زیادہ مشہور ہیں۔آخرالذکر تحریک کو اس وقت کی حکومت کی مکمل تائید اور سرگرم عمل حمایت حاصل تھی۔حکومت نے جماعت کی ترقی روکنے اور احمد یوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنے کے لئے بہت سے ظالمانہ قوانین نافذ کئے جن میں ۱۹۸۴ء کا