جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 606 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 606

606 اینٹی احمد یہ صدارتی آرڈینینس ۲۰ مشہور ہے۔چنانچہ جماعت احمدیہ کو پاکستان میں اس طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا کہ احمدیوں کی عبادتگاہیں مسمار اور مقفل کی گئیں۔ہزاروں احمدیوں کو بے جا مقدمات میں جسمانی عقوبت ذہنی اذیت اور قید و بند کا نشانہ بنانے کے علاوہ بہت سے احمدیوں کو شہید کر دیا گیا۔جن کے اسماء یہ ہیں :۔شہدائے احمدیت ذیل میں ہم احمدیت کی پاداش میں تادم تحریر جام شہادت نوش کرنے والوں کی فہرست نقل کر رہے ہیں۔اس یقین کے ساتھ کہ: خون شہیدانِ امت کا اے کم نظر رائیگاں کب گیا تھا کہ اب جائے گا ہر شہادت تیرے دیکھتے دیکھتے پھول پھل لائیگی، پھول پھل جائینگی اور پھر ہمارے لئے یہ ارشاد خداوندی حرز جاں ہے :۔وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اَمْوَاتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ۔(آل عمران : ۱۷۰) اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کو مردہ نہ کہو۔وہ زندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو رزق دیا جاتا ہے۔اس مضمون میں جن زندہ جاوید ہستیوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ان شہداء کی ایک فہرست ملاحظہ ہو۔اس فہرست میں صرف ان شہداء کو شامل کیا گیا ہے۔جن کو محض احمدیت کی پاداش میں مخالفین احمدیت نے قتل کیا۔نمبر شمار اسماء شہداء کرام ا۔حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب مقام تاریخ شہادت ۲۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کابل وسط ۱۹۰۱ء کابل ۱۴ جولائی ۱۹۰۳ء ۱۹۱۸ء ۱۹۱۸ء کابل ١٩١٨ء کابل ١٩١٨ء کابل ۳۱ اگست ۱۹۲۴ء ۳۔صاحبزادہ محمد سعید جان ابن حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید افغانستان شیر پور ۴۔صاحبزادہ محمد عمر جانا بن حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید افغانستان شیر پور ۵۔حضرت سید سلطان صاحب شہید ۶۔حضرت سید حکیم مظلوم صاحب ے۔مولوی نعمت اللہ خاں صاحب