جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 567
567 اپریل ۱۹۱۹ ء میں آپ اعلائے کلمہ اسلام کی غرض سے دوسری مرتبہ انگلستان تشریف لے گئے۔اور مئی ۱۹۲۱ء تک وہاں مقیم رہے۔اس دوران میں آپ نے سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی زیر ہدایت خاص لندن میں جماعت کی طرف سے ایک قطعہ زمین خریدی جس پر بعد میں مسجد فضل لنڈن تعمیر ہوئی۔انگلستان سے واپس آنے کے بعد آپ نے حضور رضی اللہ عنہ کی زیر ہدایت ملکانہ (بھارت کے صوبہ اتر پردیش کا ایک علاقہ ) میں امیر المجاہدین کی حیثیت سے وہ کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے کہ جن کے اپنے اور پرائے سب معترف ہیں۔۱۹۲۴ء میں جب حضرت خلیفتہ اسیح الثانی یورپ تشریف لے گئے تھے۔اس وقت اس تاریخی سفر میں جن احباب کو حضور کے ہمراہ جانے کا شرف حاصل ہوا۔ان میں محترم چوہدری صاحب مرحوم بھی شامل تھے۔اس سفر میں حضور نے مسجد فضل لندن کا سنگ بنیاد رکھا۔اس طرح آپ کو مسجد فضل لنڈن کی تعمیر کے دو ابتدائی مراحل قطعہ زمین کی خرید اور سنگ بنیا د ر کھے جانے کی تقریب میں شمولیت کی سعادت نصیب ہوئی۔بعد ازاں صدر انجمن احمد یہ میں سالہا سال تک ناظر دعوة وتبلیغ اور ناظر اعلیٰ کے ممتاز عہدوں پر فائز رہنے اور ہر دولحاظ سے نمایاں اور شاندار خدمات بجالانے کے بعد آپ کیکم اکتوبر ۱۹۵۰ء کو ریٹائر ہوئے۔آپ کے ریٹائر ہونے پر صدر انجمن احمدیہ نے باقاعدہ ایک ریزولیوشن کے ذریعے آپ کی نمایاں اور شاندار خدمات کا اعتراف کیا۔اسی دوران ۱۹۴۶ء میں آپ پنجاب اسمبلی کے بھی رکن منتخب ہوئے اور اس حیثیت سے آپ نے مسلمانوں کی نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ملکی تقسیم کے وقت قادیان میں آپ گرفتار کر لئے گئے اور اس طرح آپ کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ریٹائرڈ ہونے کے بعد ۱۹۵۴ء میں آپ دوبارہ ناظر اصلاح وارشاد مقرر ہوئے۔اس وقت سے آپ اسی عہدہ پر فائز تھے۔اس دوران میں بھی آپ کی خدمات جلیلہ کا ریکارڈ کچھ کم شاندار نہیں ہے آخر تک آپ مصروف عمل رہے۔حتی کہ جس روز آپ کو دل کا دور پڑا اس روز بھی آپ نے با قاعدہ دفتر میں حاضر ہو کر کام کیا تھا۔اس طرح بچپن سے لے کر آخری دم تک آپ کی عمر اسلام اور سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں ہی گزری اور آپ خدمت دین کا فریضہ بجالاتے ہوئے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہوئے نصف صدی کے اس عرصہ میں ہزاروں لوگوں کو آپ کے ذریعہ سے قبول حق کی توفیق ملی۔آپ مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۶۰ء کو وفات پا کر اپنے مولی حقیقی کے پاس حاضر ہو گئے۔۲۔حضرت صوفی غلام محمد صاحب مبلغ ماریشس حضرت صوفی غلام محمد صاحب کی ولادت ۱۸۸۱ء میں ہوئی اور وفات اکتوبر ۱۹۴۷ء میں لاہور میں ہوئی اور اب آپ کی آخری آرام گاہ بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہے حضرت چوہدری رستم علی صاحب کی کفالت