جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 537 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 537

537 پایہ کے حکیم تھے ) اور اپنے علاقے میں انصاف کے باعث جانے پہچانے اور عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے نے حضرت خلیفہ امسیح الاول سے تعلق اور تحقیق کے باعث احمدیت قبول کر کے ۳۱۳ صحابہ میں شمولیت کا شرف حاصل کیا اور قبولیت احمدیت کے نقطہ نظر سے آپ کے خاندان کے بانی تھے ان کے نیک اعمال کا پر تو بھی آپ پر پڑتا تھا۔اس لئے اس مسلسل مذہبی ماحول سے حضرت مولوی صاحب کا قلب سلیم اثر پذیر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔پس یہی وجہ تھی کہ میٹرک سے قبل ہی احمدیت کے گہرے اثرات آپ کے رگ و پے میں سرایت کر چکے تھے۔بی۔اے کر چکنے کے بعد جب آپ کا شعور کافی بیدار ہو چکا تھا اور علمی لحاظ سے بھی آپ تکمیل کی منازل طے کر چکے تھے۔صرف ایک جذبہ آپ کے دل کی گہرائیوں میں کارفرما تھا اور صرف ایک پاک خواہش ہی آپ کے دل کو جھنجھوڑ رہی تھی کہ کسی طرح قادیان پہنچ کر مہدی آخر الزمان کی ملاقات کی سعادت حاصل کریں۔چنانچہ آپ ۱۸۹۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت اقدس کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کر کے مستقل طور پر حضور کے روحانی مطب میں زیر علاج ہو گئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی آپ کی سادگی، نیک مزاجی علمی قابلیت اور سلامت طبعی کے باعث آپ سے بہت محبت ہوگئی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مولوی صاحب بھی اس گوہر مقصود کے مل جانے پر ایک عاشق صادق کی طرح آپ کے مقدس دامن کے ساتھ وابستگی میں فخر محسوس کرنے لگے۔حضرت مولوی صاحب نے خود احمدیت قبول کرنے کے بعد اپنے والد صاحب کو بھی احمدیت قبول کرنے کی تحریک کی۔جس کے نتیجے میں آپ کے والد صاحب نے بھی تقریباً 9 سال کی تحقیق و تدقیق کے بعد احمدیت قبول کر لی۔ڈپٹی کمشنر کی پیشکش : جب آپ نے اعلیٰ نمبروں سے لاہور میں B۔A پاس کیا تو حکومت کی طرف سے آپ کی نمایاں کامیابی کی وجہ سے آپ کو ڈپٹی کمشنر بنانے کی پیشکش کی گئی مگر آپ نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا اور زندگی وقف کر کے قادیان حاضر ہو گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ نے جو فیض پایا وہ پھر مدتوں کئی نسلوں نے آپ سے پایا۔جی کی پیشکش: ایک دفعہ آپ کے والد محترم قادیان میں تشریف لائے ہوئے تھے کہ حضرت مولوی صاحب کی قابلیت اور غیر معمولی ذہانت کی بناء پر آپ کو نجی کی پیشکش کی گئی مگر آپ نے اس پاک جذبہ کے تحت کہ مباداوالد صاحب یہ چٹھی پڑھ کر مجھے وہاں جانے کیلئے مجبور کریں ان کو اطلاع دیئے بغیر فوراً چھٹی کو پھاڑ دیا۔حضرت مسیح موعود کا ایک کشف آپ کے تقوی وطہارت، نیکی اور بزرگی کا اندازہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس کشف سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے چنانچہ آپ نے فرمایا:۔