جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 483
483 جماعت احمدیہ کے مرکزی اخبارات ورسائل کا تعارف جماعت احمدیہ کے پہلے جلیل القدر صحافی حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اپنے اخبار الحکم کے پہلے شمارے میں صحافت کی اہمیت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ : اخبار ہی ایک ایسی شے ہے جو ملک اور اہل ملک کی کایا پلٹ سکتی ہے۔بشرطیکہ مناسب اور موزوں ( الحکم ۱/۸ کتوبر ۱۸۹۷ء ص ۲) طریق پر اس سے کام لیا جائے“۔جماعت احمدیہ کے سب سے پہلے اخبار ”الحکم“ کا اجراء جماعت احمدیہ کے قیام پر آٹھ برس ہو رہے تھے اور ابھی تک جماعت اپنے اخبار سے محروم تھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے مخلصین کو ایک عرصہ سے اس کا احساس تھا لیکن اقتصادی حالات اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔آخر ایک لمبی کشمکش کے بعد اس سال کے آخر میں جماعت کے ایک باہمت اور پر جوش نو جوان حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب کو ( جو اس وقت امرتسر میں رہتے تھے اور ایک کامیاب صحافی کی حیثیت سے ادبی حلقوں میں ان کے زور قلم کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی ) اس طرف پر زور تحریک ہوئی جس پر انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا۔حضرت اقدس نے اپنے دست مبارک سے اس عریضہ کا جواب دیا۔جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ”ہم کو اس بارہ میں تجربہ نہیں۔اخبار کی ضرورت تو ہے مگر ہماری جماعت غرباء کی جماعت ہے۔مالی بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔آپ اپنے تجربہ کی بناء پر جاری کر سکتے ہیں تو کر لیں اللہ تعالیٰ مبارک کرے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب اس وقت بالکل تہی دست تھے۔دوسری طرف آپ کے بعض دوست آپ کو سرکاری ملازمت میں لانے پر مصر تھے مگر خدا تعالیٰ نے ان کی دستگیری فرمائی اور الحکم“ جیسا بلند پایہ ہفت روزہ اخبار جاری کرنے میں کامیاب ہو گئے۔66 اخبار ”الحکم کا پہلا پرچہ ۸/اکتوبر ۱۸۹۷ء کو شائع ہوا۔یہ اخبار۱۸۹۷ء کے آخر تک ریاض ہند پریس امرتسر میں چھپتا اور امرتسر ہی سے شائع ہوتا تھا۔مگر ۱۸۹۸ء کے آغاز میں یہ مرکز احمدیت میں منتقل ہو گیا۔اور چند برسوں کے وقفہ کے ساتھ جولائی ۱۹۴۳ ء تک جاری رہا۔الحکم کے دور ثانی میں زمام ادارت ان کے فرزند جناب شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مجاہد مصر نے نہایت عمدہ رنگ میں سنبھال لی اور احکام کو اپنی زندگی کے آخری