جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 378
378 اور ریفریشر کورسز کا انعقاد کروانا نیز تعلیم القرآن اور وقف عارضی سکیم کا نفاذ تمام دنیا میں یقینی بنانا بھی اس وکالت کے سپر د ہوتا ہے۔۴۔ہر ملک میں سیمینارز کا انعقاد، ہر ملک میں نیشنل سطح پر جماعتی جلسوں کا انعقاد کروانا اسی طرح تمام دنیا کی جماعتوں کو مرکزی جلسے کی کارروائی سے آگاہ کرنا نیز تمام دنیا کے احمدی احباب تک حضرت خلیفہ ایح کے خطبات وخطابات پہنچانے کا انتظام کروانا۔۵- تحریک جدید انجمن احمدیہ کی طرف سے مجلات اور رسائل کو شائع کرنا نیز جماعت کے خلاف ہونے والے منفی پرو پیگنڈا پر نظر رکھنا اور اس کے مناسب جواب کا انتظام کرنا۔۶۔بیرونی ممالک میں رشتہ ناطہ، امور عامہ اور امورخارجہ کی نگرانی کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل ہوتا ہے۔۔تمام مبلغین اور معلمین سلسلہ وکالت تبشیر کے تحت کام کرتے ہیں۔وکالت تبشیر انہیں میدان عمل میں بھجواتی ہے اور اس امر کی نگرانی کرتی ہے کہ وہ احباب جماعت میں تبلیغ کے جذبے کو ابھارنے کے لئے کوشش کریں۔۸۔وکالت تبشیر اس امر کی کوشش کرتی ہے کہ تمام احباب جماعت عملی طور پر مبلغ بن جائیں۔نیز یہ وکالت احباب جماعت کی تعلیم و تربیت کیلئے مناسب انتظامات کرنے کی بھی ذمہ دار ہوتی ہے۔۹۔وکالت تبشیر نومبائعین کی تعلیم و تربیت کے لئے مناسب انتظامات کرتی ہے تا کہ انہیں ان کے فرائض سے آگاہ کیا جائے اور باقاعدہ نظام جماعت کا حصہ بنایا جائے۔۱۰۔وکالت تبشیر وکیل اعلیٰ صاحب کے مشورے سے مرکزی مربیان کی مختلف ممالک میں تقرری کیلئے خلیفہ المسیح کی خدمت میں تجاویز پیش کرتی ہے اور بعد منظوری انہیں متعلقہ ملک میں بھجوانے کا انتظام کرتی ہے۔ا۔وکیل التبشیر کو ضرورت پڑنے پر مبلغین اور معلمین کی تقرری اور انہیں کام سے ہٹانے کے فیصلہ کا اختیار ہوتا ہے۔۱۲۔وکالت تبشیر خلیفہ مسیح کی طرفسے جو کام اسے وقافو قا تفویض کیا جاتا ہےاسے بجالاتی ہے۔۱۳۔حضرت خلیفہ امسیح نے ایک ایڈیشنل وکیل التبشیر بھی مقرر فرمائے ہوئے ہیں جو کہ لنڈن میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ایڈیشنل وکیل التبشیر کے ذمہ ان تمام امور کی بجا آوری ہے جو انہیں حضرت خلیفہ اسی کی طرف سے تفویض کیئے جائیں۔