جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 318
318 یہی وہ تعلیم تھی جس کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ نے جذبہ ہمدردی سے سرشار ہوکر سب سے زیادہ توجہ خدمت خلق کی طرف دی۔چنانچہ خدمت خلق جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔مخلوق خدا سے ہمدردی کا ایک طریق بیماروں کی دیکھ بھال ان کی عیادت و تیمار داری انہیں ہر ممکن علاج مہیا کرنا اور صحت یابی کے مراحل طے کرنے میں ان کو مدد دینا۔آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ بیمار کا علاج ضرور کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے لئے شفاء رکھی ہے۔پس اگر بیماری کی صحیح دوامل جائے تو اللہ تعالیٰ کے اذن سے بیمار تندرست ہو جاتا ہے۔یوں بسا اوقات ایک فرد کی زندگی کو بچانے کے نتیجہ میں شفا پانے والا ساری انسانیت کو زندہ کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔چنانچہ اسی مقصد کے تحت جماعت احمدیہ نے محض خدمت خلق کے جذبہ سے کئی بڑے بڑے ہسپتال اور بنیادی طبی مراکز قائم کر رکھے ہیں۔اس سلسلہ میں براعظم افریقہ نے غیر معمولی حصہ پایا ہے۔پاکستان میں بھی خاص طور پر نگر پارکر سندھ اور دیگر کئی مقامات پر جماعت احمد یہ طبی مراکز قائم کر کے سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں علاج معالجہ سے محروم اور دکھی انسانیت کی زندگیوں کو بچانے میں دن رات مصروف عمل ہے۔فض عمر ہسپتال کا نام جماعت اور غیر جماعت دوستوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔یہ ہسپتال حضرت امام جماعت احمد یہ خلیفہ امسیح الثانی کی خاص توجہ سے ۲۰ فروری ۱۹۵۶ء میں قائم ہوا اور حضور کے نام ہی سے منسوب ہے جو ساڑھے سینتیس کنال رقبہ پر پھیلا ہوا ہے۔اس ہسپتال کو قائم کرنے کی بنیادی غرض انسانیت کی بلا تمیز رنگ ونسل اور مذہب وملت خدمت بجالانا ہے۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے دن رات یہ ہسپتال ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔اور خلافت کی خاص توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الرابع ” نے آغا ز خلافت ہی سے ہسپتال کی ترقی کے لئے ذاتی دلچسپی لی۔اور اپنی ہدایات اور راہنمائی سے نوازا۔اسی سلسلہ میں حضور نے برموقع جلسہ سالانہ ۱۹۸۳ء میں فرمایا :۔خواہش یہ ہے اور دعا یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا ہسپتال بہترین ہسپتال ہو۔کارکنوں کے اخلاق کے لحاظ سے بھی اور کردار کے لحاظ سے بھی کہ وہ اپنے مریضوں کے لئے دعائیں کرنے والے ہوں اور دوا پر انحصار نہ کرنے والے ہوں۔اس لحاظ سے غریب کی گہری ہمدردی پائی جاتی ہے۔اس لحاظ سے بھی کہ فنی ماہرین بھی یہاں چوٹی کے ہوں۔“ ( الفضل ۱۲ را پریل ۱۹۸۴ء) یہ بات درست ہے کہ مادی وسائل کے لحاظ سے یہ ہسپتال بہت معمولی حیثیت رکھتا ہے۔مگر یہ ہم دعوی کر سکتے ہیں کہ کارگزاری اور شفایابی کے لحاظ سے مثالی ہسپتالوں سے کسی طرح کم نہیں۔احمد یہ ہسپتالوں اور طبی مراکز کو دیگر ہسپتالوں کی نسبت جو ممتاز حیثیت حاصل ہے وہ یہ ہے کہ احمدیہ