جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 317
317 فضل عمر ہسپتال ربوہ حضرت بانی سلسلہ احمد یہ اپنے منظوم فارسی کلام میں اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔مرا مطلوب و مقصود و تمنا خدمت خلق است ہمیں کارم ہمیں بارم ہمیں رسم ہمیں راہم یعنی میری زندگی کی سب سے بڑی تمنا اور خواہش خدمت خلق ہے۔یہی میرا کام، یہی میری ذمہ داری، یہی میرا فریضہ اور یہی میرا طریقہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ مخلوق خدا سے ہمدردی اور ان کی مصیبتوں کو دور کرنا جماعت احمدیہ کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔چنانچہ شرائط بیعت میں شامل ہے کہ:۔عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچائے گا۔“ ہمدردی بنی نوع انسان کے سلسلہ میں ہی حضرت بانی سلسلہ تحریر فرماتے ہیں کہ:۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہو سکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہر اوے اگر میرا ایک بھائی میرے سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہے۔اور میں باوجود اپنی صحت اور تندرستی کے چار پائی پر قبضہ کرتا ہوں تا وہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے اگر میں نہ بیٹھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چار پائی اس کو نہ دوں اور اپنے لئے فرش زمین پسند نہ کروں۔اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی مدد سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں اس کے مقابل پر امن سے سو رہوں بعد اس کے لئے جہاں تک میرے بس میں ہے آرام رسانی کی تدبیر نہ کروں۔اور اگر میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے کوئی سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہے۔“ شہادت القرآن ص ۹۹-۱۰۰) حضرت مفتی محمد صادق صاحب روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودا کثر فرمایا کرتے تھے کہ:۔”ہمارے بڑے اصول دو ہیں۔اول خدا کے ساتھ تعلق صاف رکھنا اور دوسرے اس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی اور اخلاق سے پیش آنا۔“ (ذکر حبیب ص۱۸۰)