جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 268 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 268

268 مطالعہ میں شامل ہیں جو طلباء نے خود پڑھنی ہوتی ہیں اور نوٹس تیار کرنے ہوتے ہیں۔علم الکلام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے علاوہ خلفاء سلسلہ کی اہم کتب نیز جماعت کے بعض نامور علماء کی بعض مشہور کتب اور اسی طرح سلسلہ کے بزرگوں کے علاوہ بعض نئے اور پرانے مصنفین کی کتب کا مطالعہ کروایا جاتا ہے۔اور جماعت احمدیہ اور دیگر مسلمان فرقوں کے درمیان اختلافی مسائل کلاس میں پڑھائے جاتے ہیں۔بہائیت بھی علم الکلام کے تحت پڑھائی جاتی ہے۔موازنہ مذاہب عالم کے مضمون کے تحت عیسائیت، یہودیت ، ہند وازم ،سکھ ازم، اور بدھ ازم کے علاوہ دیگر تمام مذاہب جن میں شنٹو ازم کنفیوشس ازم ، لامہ مت اور تامہ مت بھی پڑھائے جاتے ہیں۔زبانوں میں انگریزی، عربی، فارسی اور اردو زبانیں پڑھائی جاتی ہیں۔علاوہ ازیں عربی ادب کی مشہور نظم و نثر کی کتب کے بعض حصے پڑھائے جاتے ہیں۔اسی طرح عربی قواعد صرف ونحو ) بھی پڑھائے جاتے ہیں۔فقہ کے مضمون میں عبادات، معاملات اور دیگر بنیادی ضروری تمام مسائل پڑھائے جاتے ہیں۔طلباء میں حسن خطابت کا جو ہر پیدا کرنے کیلئے عربی، انگریزی اور اردو زبانوں میں تقاریر کی مشق بھی کروائی جاتی ہے۔جامعہ احمدیہ میں جنرل نالج بھی پڑھایا جاتا ہے۔اس تعلق میں احمدی و غیر احمدی دینی و دنیوی سکالرز سے گاہ بگاہ لیکچر بھی دلوائے جاتے ہیں۔چھٹے سال میں جامعہ کے تمام طلباء سے کسی علمی موضوع پر ایک تحقیقی مقالہ بھی لکھوایا جاتا ہے۔لائبریری جامعہ احمدیہ سینئر سیکشن ابتدائی طور پر جامعہ کی کوئی لائبریری نہیں تھی۔1930ء میں نظارت تعلیم نے یہ کوشش کی کہ طلباء جامعہ احمدیہ صادق لائبریری سے فائدہ اٹھا سکیں۔یہ لائبریری حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی کتب پر مشتمل تھی جو انہوں نے صدر انجمن احمد یہ کوعطیہ عنایت کی تھیں۔اس کے علاوہ اس لائبریری میں سید نا حضرت خلیفہ اسیح الاول کا کتب خانہ بھی تھا۔جامعہ احمدیہ قادیان کی لائبریری کے لئے پنجاب یونیورسٹی سے بھی خط و کتابت کر کے گرانٹ منظور کروائی گئی جس میں سے 50 روپے 1930ء میں وصول ہوئے۔اس طرح 31-1930 میں جامعہ احمدیہ