جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 137
137 موجودگی میں ناظر اعلیٰ کے فرائض ادا کرنے کے لئے تین ایڈیشنل ناظر اعلیٰ مقرر کئے گئے۔یہ ترمیم بھی منظور کی گئی کہ اگر کسی اشد مجبوری کی وجہ سے انتخاب خلافت تین دن کے اندر نہ ہو سکے تو صدر انجمن احمد یہ اس بات کی مجاز ہوگی کہ وہ تین دن کے اندر انتخاب کی شرط کو نظر انداز کر دے۔اگر ناظر اعلیٰ صدرانجمن احمد یہ ربوہ اس موقع پر یو کے پہنچ جائیں تو نظارت علیا کے جملہ اختیارات انہیں کے پاس ہوں گے۔لیکن اگر وہ یو کے نہ پہنچ سکیں تو جوایڈیشنل ناظر اعلی لندن میں موجود ہوں گے وہ یہ فرائض ادا کریں گے۔اور اس دوران صدر انجمن احمدیہ کے جو اراکین لندن میں موجود ہوں گے ان پر مشتمل انجمن جماعت احمدیہ کے جملہ امور کی نگران ہوگی۔اور اس دوران صدر انجمن احمدیہ کے جو ممبران پاکستان میں موجود ہوں گے اور ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمد یہ موجود پاکستان اور جملہ جماعت ہائے احمد یہ عالمگیر لندن میں موجودایڈیشنل ناظر اعلیٰ اور ممبران صدر انجمن احمد یہ موجود لندن کے جملہ فیصلہ جات کو من و عن تسلیم کرنے کے پابند ہوں گے۔یو کے میں صدر انجمن احمدیہ کے اجلاسات ایڈیشنل صدرصد رانجمن احمدیہ کی زیر صدارت ہوں گے۔اور اس غرض کے لئے مکرم صاحبزادہ مرزا مظفراحمد صاحب کو ایڈیشنل صدر صدر انجمن احمد یہ مقرر کیا گیا۔یہ بھی قرار پایا کہ ناظران اور وکلاء کی سنیارٹی لسٹ کی منظوری حضرت خلیفتہ امیج ایدہ اللہ سے حاصل کی جائے گی۔سیکر یٹری مجلس شوری مجلس انتخاب خلافت کا بھی سیکریٹری ہوتا ہے۔اس کے متعلق یہ قاعدہ منظور کیا گیا کہ تا اطلاع ثانی مکرم عطاء المجیب راشد صاحب اس مجلس کے سیکریٹری ہوں گے اور اگر وہ اس موقع پر لندن میں موجود نہ ہوں تو جو بھی عملاً حضور کے پرائیویٹ سیکریٹری کے فرائض سرانجام دے رہا ہو وہ سیکریٹری کے فرائض ادا کرے گا۔سیکریٹری مجلس شوری بحیثیت سیکریٹری شوری ووٹنگ ممبر نہیں ہوں گے۔حضور نے یہ تجویز بھی منظور فرمائی کہ ہر وہ شخص جس نے کسی وقت نظام جماعت کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ لیا ہو یا جو اسے لوگوں کے ساتھ ملوث رہا ہواس کا نام انتخاب خلافت کے لئے پیش نہیں ہو سکے گا۔صدر انجمن احمد یہ ایسے افراد کے ناموں کی فہرست تیار کر کے حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ سے اس کی منظوری حاصل کرے گی۔انتخاب خلافت حاضر اراکین کی سادہ اکثریت سے ہوگا اور جس کے حق میں سب سے زیادہ آراء ہوں گی وہی منتخب خلیفہ ہو گا۔اور کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہوگا۔اور تمام افراد جماعت ہائے احمد یہ عالمگیر منتخب خلیفہ کی بیعت کریں گے۔۲۳ نومبر ۱۹۸۵ کوحضرت خلیفۃ المسیح کے دستخطوں سے ایک سرکلر جاری ہوا اوران ترمیم شدہ قوانین کوختمی حیثیت حاصل ہو گئی۔